| دِيوانِ حماسه |
3۔۔۔۔۔۔
مَھْلًا بَنِیْ عَمِّنا عَنْ نَّحْتِ اَثْلَتِنا سِیْرُوْا رُوَیْدًا کماکنتُمْ تَسِیْرُوْناترجمہ:
اے ہمارے چچاکے بیٹو!ہماری عزت سے کھیلنے سے باز آجاؤاس طرح چلوجس طرح پہلے چلا کرتے تھے۔
حل لغات :
نَحْت:سنگ تراشی۔تراش۔فطری ساخت وبناوٹ۔اصل۔فطرت۔ طبعیت۔اَثْلَۃُ:جڑ۔گھر کاسامان۔ تیاری۔ لوگوں کاراشن۔ج:اِثَالٌ۔نحت اثلتَہ،:عیب بیان کرنا،مذمت کرنا۔4۔۔۔۔۔۔
اَﷲُ یَعْلَمُ اَنَّا لانُحِبُّکم ولانَلُومُکم اَلَّاتُحِبُّوْناترجمہ:
اﷲجانتاہے ہم تم سے محبت نہیں کرتے اورتمہیں ملامت نہیں کرتے اس پر کہ تم ہم سے محبت نہیں کرتے۔5۔۔۔۔۔۔
کُلٌّ لَہٗ نِیَّۃٌ فِیْ بُغْضِ صاحِبِہٖ بِنِعْمَۃِاﷲِنَقْلِیْکُمْ وتَقْلُوْناترجمہ:
اپنے ساتھی سے بغض رکھنے میں ہرایک کی نیت ہے اﷲکااحسان ہے کہ ہم تم سے اورتم ہم سے دشمنی رکھتے ہو۔
حل لغات :
قَلِیَ(س)قِلًی:مبغوض رکھنا۔قَلٰی(ض)فلانا:کسی سے متنفر ہوکرتعلق چھوڑدینا،کسی کو نا پسند کرتے ہوئے چھوڑدینا۔فی القرآن المجید:
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی۔(93/3)
وقال الطِّرْماحُ بْنُ حَکِیْمٍ (الطویل)
شاعرکانام:
طرماح بن حکیم ہے(متوفی 125ھ/743ء)اوریہ اسلامی شاعرہیں۔
اشعار کا پس منظر:
یہ بصرہ کی مسجد میں تکبروگھمنڈ سے چل رہاتھاکسی نے دیکھ کرکہایہ متکبر کون ہے توجواب میں شاعر نے یہ اشعارکہے۔