Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
193 - 324
اَکْرَمَ نَفْسَہ،:جو اپنے مال کو ذلیل(خرچ)کریگا وہ اپنے نفس کو معزز بنائے گا
3۔۔۔۔۔۔

           مَھْلًا بَنِیْ عَمِّنا عَنْ نَّحْتِ اَثْلَتِنا                سِیْرُوْا رُوَیْدًا کماکنتُمْ تَسِیْرُوْنا
ترجمہ:

    اے ہمارے چچاکے بیٹو!ہماری عزت سے کھیلنے سے باز آجاؤاس طرح چلوجس طرح پہلے چلا کرتے تھے۔

حل لغات :

     نَحْت:سنگ تراشی۔تراش۔فطری ساخت وبناوٹ۔اصل۔فطرت۔ طبعیت۔اَثْلَۃُ:جڑ۔گھر کاسامان۔ تیاری۔ لوگوں کاراشن۔ج:اِثَالٌ۔نحت اثلتَہ،:عیب بیان کرنا،مذمت کرنا۔
4۔۔۔۔۔۔

           اَﷲُ یَعْلَمُ اَنَّا لانُحِبُّکم                          ولانَلُومُکم اَلَّاتُحِبُّوْنا
ترجمہ:

    اﷲجانتاہے ہم تم سے محبت نہیں کرتے اورتمہیں ملامت نہیں کرتے اس پر کہ تم ہم سے محبت نہیں کرتے۔
5۔۔۔۔۔۔

        کُلٌّ لَہٗ نِیَّۃٌ فِیْ بُغْضِ صاحِبِہٖ                      بِنِعْمَۃِاﷲِنَقْلِیْکُمْ وتَقْلُوْنا
ترجمہ:

    اپنے ساتھی سے بغض رکھنے میں ہرایک کی نیت ہے اﷲکااحسان ہے کہ ہم تم سے اورتم ہم سے دشمنی رکھتے ہو۔ 

حل لغات :

    قَلِیَ(س)قِلًی:مبغوض رکھنا۔قَلٰی(ض)فلانا:کسی سے متنفر ہوکرتعلق چھوڑدینا،کسی کو نا پسند کرتے ہوئے چھوڑدینا۔
فی القرآن المجید:
مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلَی۔(93/3)
وقال الطِّرْماحُ بْنُ حَکِیْمٍ (الطویل)
شاعرکانام:

     طرماح بن حکیم ہے(متوفی 125ھ/743ء)اوریہ اسلامی شاعرہیں۔ 

اشعار کا پس منظر:

    یہ بصرہ کی مسجد میں تکبروگھمنڈ سے چل رہاتھاکسی نے دیکھ کرکہایہ متکبر کون ہے توجواب میں شاعر نے یہ اشعارکہے۔
Flag Counter