| دِيوانِ حماسه |
شاعر کا تعارف:
شاعرکانام :فضل بن عباس بن عُتبہ بن أبی لہب ہے(متوفی 90ھ/714ء)یہ بنو ہاشم کے فصحاء سے ہیں،اور فرزدق اور احوص کے ہم عصر،د ور ِ اموی (ولید بن عبد الملک کے زمانہ کے)اسلامی شاعر ہیں۔
اشعار کا پس منظر:
یہ حضرت علی رضی اﷲعنہ کے ساتھ تھے بنوامیہ کو خطاب کرتے ہوئے یہ اشعار کہتے ہیں ۔1۔۔۔۔۔۔
مَھْلًا بَنِیْ عَمِّنا مَھْلًا مَوَالِیَنَا لاتَنْبُشُوْا بَیْنَنَا ماکانَ مَدْفُوْنَاترجمہ:
اے ہمارے چچازاد بھائیو !جلدی نہ کرو،اے ہمارے چچازاد بھائیو!ذرا نرمی سے کام لوجومعاملہ ختم ہوچکاہے اسے نہ اچھالو۔
فائدہ:
شعر کے پہلے مصرعہ میں تکرار تاکید کیلئے ہے۔ بعض محققین کانظریہ ہے کہ یہ ناراضگی کے اظہار کیلئے بھی ہوسکتاہے۔
حل لغات :لاتَنْبُشُوا:نَبَشَ الارضَ:
زمین کھودناتاکہ اس سے دفینہ نکالاجائے۔ المَستُورَ وعنہ:پوشید چیز ظاہر کرنا۔
نَبَشَ الاَسرَارَوعَنِ الاَسْرارِ:
بھید ظاہر کرنا۔
2۔۔۔۔۔۔
لاتَطْمَعُوْااَنْ تُھِیْنُوْنَا وَنُکْرِمَکُمْ وَاَنْ نَّکُفَّ الْاَذٰی عنکم وتُؤْذُوْنَاترجمہ:
یہ امیدنہ رکھوکہ تم ہماری توہین کرواس کے باوجو دہم تمہاری تعظیم کریں اوراس کی بھی امید نہ رکھنا کہ ہم تمہیں تکلیف نہیں دیں گے اورتم ہمیں تکلیف دئیے جاؤ۔
حل لغات :تُھِیْنُو:اَھانَ فلانٌ الامرَاوالشَّخْصَ:
کسی کام یا شخص کومعمولی وحقیر سمجھنا۔عربی مقولہ ہے:
مَنْ اَھانَ مالَہٗ