Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
190 - 324
اس نے اپنے غلام سے کہا :امیرالمؤمنین ولید کے پاس جاکر کہوشعیب مجھ سے برائی کرنا چاہتا ہے۔غلام نے ولیدکو شکایت کی تو ولید، شعیب کی طرف متوجہ ہوکربولے :یہ کیاکہہ رہاہے ؟شعیب نے کہاسختی سے تفتیش کیجئے ۔جب اس نے غلام پر سختی کی تو اس نے کہا میں نے احوص کے حکم پر ایساکیا اور ولید کے غلاموں نے بھی اس کی تائید کی تو ولید نے احوص کو ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم انصاری کے پاس بھیجااور حکم دیا اسے سوکوڑے مارے جائیں۔جب کوڑے شروع ہوئے تو ابوبکر بن محمد سے مخاطب ہوکر شاعر نے یہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔

        اِنِّیْ عَلٰی ماقد عَلِمْتَ مُحَسَّد                    اَنْمِیْ علَی الْبَغْضاءِ وَالشَّنْآنٖ
ترجمہ:

    بے شک مجھ سے ان خوبیوں کی وجہ سے جوتجھے معلوم ہیں حسد کیاجاتاہے بغض وحسد کے باوجود میں ترقی کررہاہوں۔

حل لغات :

     مُحَسَّدٌ:مفع:(ن،ض اور تفعیل سے بھی ایک ہی معنی ہے)

حسد کی تعریف:
     اَلحَسَدُ:تَمَنِّی زَوَالِ نِعمۃِ الْمَحْسُودِاِلَی الحاسِدِ:
یعنی یہ تمنی کر نا کہ صاحب نعمت کی نعمت چھن کرمجھے مل جائے۔
 (التعر یفات ص62 دار المنار)
فی القرآن المجید:
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَد۔(113/5)
فی الحدیث :ولاتحاسدواولاتباغضوا ولاتدابروا وکونواعباد اللہ اخوانا:
ایک دوسرے سے حسد رکھو نہ بغض رکھواور نہ ایک دوسرے کو پیٹھ دو اللہ کے بندو بھائی بھائی ہوجاؤ۔ اَلْبَغْضَاءُ:سخت دشمنی ۔ الشَّنْآنُ:دشمنی کرنے والا ،بغض رکھنے والا،بر اسمجھنے والا۔
2۔۔۔۔۔۔

      ما تَعْتَرِیْنِیْ مِنْ خُطُوْبٍ مُلِمَّۃٍ                  اِلَّا تُشَرِّفُنِیْ وتُعْظِمُ شانِیْ
ترجمہ:

     جب بھی مجھے ناگہانی مصیبتیں پہنچتیں ہیں تو مجھے معززہی بناتی ہیں اور میری شان ہی بڑھاتی ہیں۔ 

حل لغات :
     تعتری:اعتراہ الشیئُ:
پیش آنا،طاری ہونا،لاحق ہونا۔تشرف:شَرَّفَ فلانًا: عزت بخشنا،حیثیث بلند کرنا،اعزاز عطاکرنا،باعزت بنانا۔تُعَظِّمُ:عَظَّمَہ،:بڑا بنانا ، شانداربنانا، بڑا یاشاندار سمجھنا،بڑھانا،بڑادرجہ دینا،تعظیم
Flag Counter