Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
189 - 324
3۔۔۔۔۔۔

          اَلَمْ تَرَ اَنَّ شِعْرِیْ سَارَعَنِّیْ                      وَشِعْرُکَ حَوْلَ بَیْتِکَ مَایَسِیْر،
ترجمہ:

     کیاتو نہیں دیکھتاکہ میرے شعر مشہور ہوگئے اور تیرے شعر تیرے گھرکے اردگرد بھی نہیں پھیلے۔

حل لغات :

     بَیْتٌ:رہائش گاہ ،گھر۔گھر کا فرش۔کعبہ۔قبر۔
4۔۔۔۔۔۔

          اِذَااَبْصَرَتَنِی اَعْرَضْتَ عَنِّیْ                   کَاّنَّ الشَّمْسَ مِنْ قِبَلِیْ تَدُوْرُ
ترجمہ:

    جب تو مجھے دیکھتاہے تو میری طرف سے منہ پھیر لیتاہے جیسے سورج میری طرف سے طلوع ہورہا ہو۔

مطلب:

    تیراسینہ میری عداوت ودشمنی سے اس قدر بھراہوا ہے کہ تو مجھے دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتادیکھتے ہی آنکھیں پھیر لیتاہے جس طرح سورج پر آنکھیں نہیں جمتیں اسی طرح میرے اوپربھی تیری آنکھیں نہیں ٹھہرتیں۔

حل لغات :

     قِبَلٌ:طاقت ،دسترس۔
فی القرآن المجید:
بِجُنُودٍ لَّا قِبَلَ لَہُم بِہَا۔(27/33)
جہت،کونہ ،گوشہ۔نزد۔قریب۔
وَقال الْاَحْوَصُ بْنُ محمدِ بنِ عاصمٍ الانصارِیُّ (الکامل)
شاعرکاتعارف:

    شاعرکا نام:عبد اللہ بن محمدبن عبد اللہ بن عاصم ہے (متوفی105ھ/723ء )''احوص''چھوٹی آنکھوں والے کو کہتے ہیں ۔ ان کی آنکھیں چھوٹی تھیں اس لئے اس لقب سے مشہور ہوگئے اوریہ اسلامی شاعرہیں۔

اشعار کا پس منظر:

    یہ شاعر اور شعیب دونوں ولید بن عبدالملک بن مروان کے پاس گئے ،احوص ولید کے امردغلاموں کواپنے ساتھ برائی کرنے کے لئے ابھارنے لگا(کیونکہ یہ امرد پسندی کا مریض اور عادت سے مجبورتھا)توشعیب اس کے غلام پر ناراض ہوکر اسے ڈانٹنے لگا،احوص کو ڈرہواکہ شعیب مجھے رسوا نہ کردے کیونکہ اسے میری غلط حرکت کا علم ہوچکاہے۔تو
Flag Counter