کسی جگہ پر پہنچنا خواہ اند رداخل ہویا باہر رہے۔الماءَ:پانی کے پاس آنا۔
وَقَالَ عَنْتَرَۃُ بْنُ الْاَخْرَسِ الْمَعنی مِنْ طَیٍّ (الوافر)
شاعرکانام:
عنترۃ بن اخرس معنی ان کاتعلق بنوطی سے ہے اوریہ اسلامی شاعرہیں۔
اشعار کا پس منظر:
ان کے چچا کے بیٹے حنظلہ بن اشہب بن رمیلہ ان سے بغض رکھتے اور انہیں تکلیف دیاکرتے تھے ،شاعرانہیں خطاب کرتے ہوئے یہ اشعار کہتے ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔
اَطِلْ حَمْلَ اَلشَّنَاءَ ۃِ لِیْ وَبُغْضِیْ وَعِشْ مَاشِئْتَ فَانْظُرْ مَنْ تَضِیْر
ترجمہ:
میرے بغض وحسد کو دیر تک اٹھائے رکھ اور جب تک چاہے زندہ رہ پھر دیکھ کہ تو کس کا نقصان کرتاہے ۔
حل لغات :
اَطِلْ:(افعال)اَطَالَ الشیءَ وفیہ:
لمباکرنا۔علیہ:مہربانی کرنا۔ اَلشَّنَاءَ ۃُ:عداوت ودشمنی ۔ تَضِیْر،:ضارہ، کذا(ض)ضَیْرًا:نقصان پہنچانا ،تکلیف دینا۔
2۔۔۔۔۔۔
فمَابِیَدَیْکَ نَفْعٌ اَرْتَجِیہِ وَغَیْرَ صُدُوْدِکَ الْخَطْبُ الْکَبِیْر،
ترجمہ:
تیرے پاس کوئی ایسانفع نہیں جس کی میں امید رکھوں اورتیری کنارہ کشی کے علاوہ ہرمعاملہ بڑا ہے
مطلب:
شاعر طنزکررہاہے کہ تیری دشمنی کی مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔
حل لغات :
نَفْعٌ:نفع ،ذریعہ کامیابی۔ اَرْتَجِی:اِرْتَجَاہُ:امید رکھنا،توقع رکھنا،امید قائم رکھنا،ڈرنا۔ صُدُوْدٌ:مص۔صَدَّ عنہُ(ن)صَدُوْدًا:اعراض کرنا،منہ پھیرنا۔