Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
187 - 324
ترجمہ:

    اگرتم نے انتقام نہ لیااور دیت لے لی پھرتو کان کٹے شترمرغ کے کان لے کر چلو۔

مطلب: 

    جب تم مقتول کاانتقام نہ لوبلکہ مال لے کر کھاجاؤ تو ذلیل ورسوا ہوکرچلو۔ 

حل لغات :
     اِتَّدَ یْتُمْ:(افتعال)اِتَّدَی وَلِیُّ القَتِیْلِ:
مقتول کے ولی کاخون بہالیکر قاتل کوچھوڑ دینا۔(حروف اصلیہ :و،د،ی)
آذان:اَلاُذْنُ والاُذُنُ:کان ۔فی القرآن المجید:
وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالأَنفَ بِالأَنفِ وَالأُذُنَ بِالأُذُن۔(5/45)
اَلنَّعَام:مف:اَلنَّعَامَۃُ:شتر مرغ(مذکرومؤنث)جنگل راہ نمانشان۔ کنویں یاپہاڑپر بناہوا سائبان ۔ دیوار کابڑھا ہوا پتھر ۔دماغ کی جھلی۔اَلمُصَلَّم:فا:صَلَّمَہ،:بالکل کاٹنا۔بالکل جڑ سے کاٹنا۔
5۔۔۔۔۔۔

           وَلَاتَرِدُوْااِلَّا فُضُوْلَ نسَائِکُم                        اِذَاارْتَمَلَتْ اَعْقَابُھُنَّ مِنَ الدَّمٖ
ترجمہ:

    (الف)اورتم حوض پرعورتوں کے پانی استعمال کرلینے کے بعدہی آنا جب انکی ایڑیاں خون سے لت پت ہوں۔

    (ب)اور تم حیض کی حالت میں ہی عورتوں کے پاس آناجب ان کی ایڑیاں خون آلودہوں۔

مطلب:

    (الف)عرب سفر میں جب کسی حوض یاچشمہ پر پہنچتے تو پہلے مردحضرات اس کا پانی استعمال کرتے غسل وغیرہ کرتے جب تمام مردفارغ ہوجاتے تو بعد میں عورتیں غسل کرتیں اور کپڑے دھوتیں اور عورت کا استعمال شدہ پانی مردکے لئے انتہائی معیوب سمجھاجاتا ، ایڑیوں کے خون سے لت پت ہونے کوغیرت دلانے کیلئے ذکر کیاہے،شاعرہ کا مقصدیہ ہے کہ جب تم قصاص لینے سے قاصر ہو تو پھر تمہیں عورت پرکوئی فضیلت حاصل نہیں ۔ مرزوقی علیہ الرحمۃ نے صرف یہی معنی اور مطلب کیاہے۔
 (شرح مرزوقی ج1ص160)
 (ب)عرب حالت حیض میں عورت سے جماع بلکہ میل جول کو بھی معیوب سمجھتے تھے اور جو شخص حا لت حیض میں عورت کے پاس جاتا وہ ذلیل وحقیر شمار کیاجاتا،شاعر ہ کہتی ہے اگر تم قصاص چھوڑ دو گے تو تم بھی ذلیل ورذیل شمارکئے جاؤگے ۔
Flag Counter