2۔۔۔۔۔۔
وَلَاتَاْخُذُوْامِنْھُمْ اِفَالًا وَاَبْکُرَا وَاُترَکَ فِی بَیْتٍ بِصَعْدَۃَمُظْلِمٖ
ترجمہ:
ان سے اونٹوں کے بچے اور جوان اونٹ نہ لیناکہ میں مقام صعدہ کی تاریک قبرمیں چھوڑدیا جاؤں ۔
مطلب:
عرب کا یہ خیال تھاکہ اگرمقتول کاانتقام لے لیا جائے تو اس کی قبر روشن ہوجاتی اوراگر انتقام نہ لیا جائے اورصلح کرکے دیت لے لی جائے تواس کی قبرتاریک ہوجاتی ہے اس لئے شعر میں قبر کے تاریک ہونے کاذکر کیا۔
حل لغات :
اِفَال:مف:اَلاَفِیل:اونٹ کابچہ۔ اَبْکُر:مف:اَلبَکْرُ:جوان اونٹ ۔بیت:سے یہاں قبر مراد ہے صعدۃ:یمن کا ایک علاقہ ہے یہاں مقتول کی قبر تھی۔
3۔۔۔۔۔۔
وَدَعْ عَنْکَ عَمْرًوااِنَّ عَمْرًوا مُسَالِمٌ وَھَلْ بَطْنُ عَمْرٍوغَیْرُ شِبْرٍ لِمَطْعَمٖ
ترجمہ:
عمروکوچھوڑدووہ توصلح کرناچاہتاہے کیا عمروکاپیٹ کھانے کے لئے ایک بالشت سے زیادہ ہے؟۔
حل لغات :
مُسَالِمٌ:فا:سالمہ:مصالحت کرنا۔ شِبْر:بالشت۔ج:اَشْبارٌ۔ مَطْعَم:طعام۔اَلْمُطْعَمُ:جسے شکار کارزق حاصل ہو۔اَلْمِطْعَمُ:بہت کھا نے والا۔
4۔۔۔۔۔۔
فَاِنْ اَنْتُمْ لَمْ َتثْأَرُوْاوَاتَّدَ یْتُمْ فَمَشُّوابِآذَانِ النَّعَامِ الْمُصَلَّمٖ