فی الحدیث:دَرَّتْ لَبَنَۃُ القَاسِمِ۔
قاسم کے پینے کا دودھ بڑھ گیا۔ج:اَلْبانٌ۔اَللَّبِنُ:مٹی کی کچی اینٹیں ۔
2۔۔۔۔۔۔
فلو اَنَّ حَیًّا یَقْبَلُ المالَ فِدْیَۃً لَسُقْنا لَھم سَیْلًامِنَ المالِ مُفْعَمَا
ترجمہ:
اگر کوئی قبیلہ بطور فدیہ مال قبول کرتا توہم ان کی طرف مال سے بھر اہواسیلاب بہادیتے۔
حل لغات :
مُفْعَمٌ:بھراہوا، لبریز۔
قالتْ کَبْشَۃُ اُخْتُ عَمَرِوبْنِ مَعْدِیْکَرَبْ (الطویل)
شاعرہ کا تعارف:
شاعرہ کانام:کبشۃ عبداﷲبن معدیکرب یہ عمروبن معدیکرب کی ہمشیرہ ہیں اورشاعر ہ صحابیہ ہیں۔
اشعار کا پس منظر:
عبداﷲبن معدیکرب جو بنو زبید کے سردار تھے ایک دن بنومازن بن ربیعہ کی محفل میں شراب پی رہے تھے تو مخزوم مازنی کاحبشی غلام ایسے اشعار گانے لگاجن میں بنو زبیدکی عورت کی تشبیب تھی ،عبداﷲ نے غیرت کی وجہ سے اسے طمانچہ رسید کیا تو غلام نے مدد کیلئے پکارا اور بنومازن نے عبداللہ کو قتل کردیا،پھر بنومازن عمرو کے پاس آئے اور معذرت کرتے ہوئے کہا،نشہ کی حالت میں ہمارے ایک بندے نے آپ کے بھائی کو قتل کردیاہے ہم آپ سے رحم کی اپیل کرتے ہیں اور دیت قبول کرنے کی درخواست کرتے ہیں،عمرونے دیت قبول کرنامناسب سمجھا جب ان کی بہن کوعلم ہواتو عمرو کوقصاص پر برانگیختہ کرنے کیلئے یہ اشعار کہے۔