| دِيوانِ حماسه |
انہیں چاہے تھاکہ جس طرح دشمن تیار ہوکر آیاتھا اس طرح یہ بھی تیاری کرتے اور ہرقسم کے خطرہ سے نمٹنے کے لئے تیاررہناچاہے کیونکہ دشمن مختلف ہوتے ہیں۔
حل لغات :
الشُّجَاع:بہادر،دلیر،باہمت،حوصلہ مند۔سانپ۔ ج:شُجْعَانٌ۔ عَقْرَب:بچھو۔ج:عَقَارِب۔عربی مقولہ ہے :اَلاَقارِب کَالعَقارِب۔ قریبی بچھو کی طرح ہوتے ہیں۔4۔۔۔۔۔۔
فَلا تَاْخُذُوْا عَقْلًا مِنْ الْقومِ اِنَّنِیْ اَرَی الْعارَیَبْقٰی وَالْمَعاقِلُ تَذْھَب،ترجمہ:
تم میرے دشمنوں سے دیت نہ لیناکیونکہ مال ختم ہوجاتاہے اور طعنہ باقی رہتاہے۔
حل لغات :
العار:ہر باعث شرم بات،عیب، طعنہ۔ج:اَعْیَارٌ۔ اَلمَعَاقِل:مف:اَلمَعْقُلَۃُ:دیت ،خون بہا۔عقَلَ القَتِیلَ:مقتول کی دیت دینا۔عن فلانٍ:کسی کی طرف سے تاوان یا دیت دینا۔لہ، دَمَ فلانٍ:کسی سے دیت لے کر قصاص چھوڑ دینا۔5۔۔۔۔۔۔
کَاَنَّکَ لم تَسْبَقْ مِنَ الدھرِ لَیْلَۃٌ اِذَااَنْتَ اَدْرَکْتَ الَّذِیْ کنتَ تَطلُب،ترجمہ:
گویاکہ تجھ پر کوئی مصیبت نہیں آئی جب تو اپنا مقصد حاصل کرلے ۔وقال آخر (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔
لٰکِنْ اَبٰی قومٌ اُصِیْبَ اخوھم رِضَا العارِ فَاخْتَارُوْاعَلَی اللَّبَنِ الدَّمَاترجمہ:
لیکن جس قوم کے بھائی کو قتل کیاگیا اس نے دیت پرقصاص کوترجیح دیتے ہوئے عار پر راضی ہونے سے انکار کردیا۔
نوٹ:
شرح مرزوقی اور بیروت کے نسخہ میں اشعار کی ترتیب اس کے عکس ہے یعنی یہ شعر دوسرے نمبر پر اور دوسرا پہلے نمبر