| دِيوانِ حماسه |
حل لغات :
مَوَالِی:مف:مَوْلٰی:پرورش کرنے والا۔مالک۔کسی کام کا ذمہ داراو ر انجام دھندہ۔مخلص دوست۔ساتھی۔ معاہدہ۔مہمان۔پڑوسی۔شریک۔داماد۔باپ کی طرف سے کوئی رشتہ دار جیسے چچا وغیرہ۔یہاں چچا کے بیٹے مراد ہیں۔احسان کرنے والا،انعام دینے والا۔انعام یافتہ ،احسان کیاہوا۔آزاد کیاہوا۔آزادکرنے والا۔غلام۔ تابع،فرمانبردار۔یَخْذلون:خَذلَ(ن)خَذْلاً:
جداہونا،بچھڑنا۔ فلاناوعنہ:مددسے ہاتھ کھینچ لینا، دستبردار ہونا ،دست کش ہونا، بے یارومددگار چھوڑدینا۔
فی القرآن المجید:
وَإِن یَخْذُلْکُمْ فَمَن ذَا الَّذِیْ یَنصُرُکُم مِّن بَعْدِہ۔(3/160)وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِلْإِنسَانِ خَذُولا۔ (25/29)
فی الحدیث:المؤمنُ اخوالمؤمنِ لایَخْذُلُہٗ۔
بے نقاب کرنا،بھرم کھولنا،بھانڈا پھوڑنا۔
یَتَقَلَّبُ:تَقَلَّبَ الشیئُ:
پلٹنا،متغیرہونا۔
2۔۔۔۔۔۔
فَھَلَّا اَعَدُّوْنِیْ لِمِثْلِیْ تَفاقَدُوْا اِذَاالْخَصْمُ اَبْزٰی مَائِلُ الرَّاْئسِ اَنْکَبترجمہ:
وہ ایک دوسرے کوکھوئیں!انہوں نے مجھے میرے ہمسر کے لئے کیوں نہیں تیارکیاجب دشمن سینہ تان کر متکبرانہ چال چلا۔
حل لغات :تَفَاقَدوا:تَفاقَدَ القومُ:
ایک دوسرے کو کھونا۔یہاں بددعادے رہاہے۔ الخَصْمُ:مقابل،مخالف،حریف، فریق،جھگڑالو(تثنیہ،جمع اور مؤنث کے لئے بھی مستعمل ہے ۔
فی القرآن المجید:
وَھَلْ أَ تَاکَ نَبَأُ الْخَصْمِ إِذْ تَسَوَّرُوا الْمِحْرَابَ ۔(38/21)
اَبْزی:صفت بَزِیَ(س)بَزَاءً:سینہ باہر کو اور پیٹھ اندرکو ہونا۔ھواَبْزَی۔یہاں یہ کنایہ ہے تکبر اور غرور سے کیونکہ متکبر لوگ سینہ تان کر چلتے ہیں۔اَنْکَبْ:جھکے ہوئے کندھے والا۔بے کمان آدمی ۔ج :نُکْبٌ۔
3۔۔۔۔۔۔
وھَلَّا اَعَدُّوْنِیْ لِمِثْلِیْ تَفاقَدُوْا وَفِی الْاَرْضِ مَبْثُوْثٌ شُجاعٌ وَعَقْرَبترجمہ:
وہ ایک دوسرے کوکھوئیں!انہوں نے مجھے میرے ہمسر کے لئے کیوں نہیں تیارکیااورزمین میں سانپ اور بچھوپھیلے ہوئے ہیں۔
مطلب:
شاعر چچاکے بیٹوں کو بددعادے رہاہے کہ جب انہوں نے میری مددنہیں کی تو ان کا کیافائدہ لہذا ختم ہوجائیں