| دِيوانِ حماسه |
3۔۔۔۔۔۔
اَمَا فِیْ بَنِیْ حِصْنٍ مِنِ ابْنِ کَرِیْھَۃٍ مِنَ الْقومِ طَلَّابِ التِّرَاتِ غَشَمْشَمٖترجمہ:
کیاقوم بنوحصن میں کوئی جنگجونہیں!جوانتقام لینے والااور پختہ ارادہ والاہو۔
حل لغات :
طَلّاب:مبالغہ۔بہت زیادہ خواہش مند۔التّرات:الوِتْرُ:یکتا، اکیلا، اﷲتعالی کا ایک نام۔فردواحد۔طاق عدد۔عرفہ کادن ،بدلا، انتقام، ظالمانہ بدلہ ۔شعر میں آخری دونوں معانی مراد ہوسکتے ہیں۔ غَشَمْشَمْ:دلیراپنے ارادے سے نہ پھرنے والا۔بہت ظالم۔4۔۔۔۔۔۔
فَیَقْتُلَ جَبْرًا بِامْرِءٍ لم یَکُنْ لَّہ، بَواءً ولٰکِنْ لاتَکَایُلَ بِالدَّمٖترجمہ:
جوجبر ًاقتل کرے ایسے شخص کے بدلے جس کا کوئی ہمسر نہیں لیکن قصاص میں برابری نہیں ہوتی۔
''جَبْرًا''مرزوقی نے لکھاہے کہ یہ قاتل کانام ہے اب ترجمہ ہوگا:جوجبرکوقتل کرے۔
حل لغات :
''جَبْرًا''بیروت کے نسخہ میں''حُرًّا''ہے۔ بَوَاءً:برابر،ہم پلہ۔فلانٌبَوَاءُ فلانٍ:قصاص میں برابر ہونا۔تَکَایُلَ:تَکَایَلَ الرجُلانِ:
ایک دو سرے کے لئے ناپنا۔باہم گالی گلوچ کرنا۔انتقام میں باہم برابری کرنا۔
وَقالَ بَعْضُ بَنِیْ فَقْعَسٍ (الطویل)
شاعر کانام:
مرہ بن عداء فقعسی ہے۔(کذا قیل)
اشعار کا پس منظر:
شاعرکودشمنوں نے قیدکرلیاتھااوراس کے رشتہ داروں نے اس کی کوئی مددنہیں کی تو اس موقعہ پر یہ اشعارکہے۔1۔۔۔۔۔۔
رَاَیْتُ مَوَالِیَ الْاُلیٰ یَخْذُلُوْنَنِیْ عَلٰی حَدَثانِ الدَّھْرِ اِذْ یَتَقَلَّب،ترجمہ:
میں چچاکے بیٹوں کو غلطی پر سمجھتاہوں جنہوں نے میری حوادث زمانہ پرکوئی مددنہیں کی جب وہ پلٹا