Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
182 - 324
3۔۔۔۔۔۔

        اَمَا فِیْ بَنِیْ حِصْنٍ مِنِ ابْنِ کَرِیْھَۃٍ                    مِنَ الْقومِ طَلَّابِ التِّرَاتِ غَشَمْشَمٖ
ترجمہ:

    کیاقوم بنوحصن میں کوئی جنگجونہیں!جوانتقام لینے والااور پختہ ارادہ والاہو۔ 

حل لغات :

    طَلّاب:مبالغہ۔بہت زیادہ خواہش مند۔التّرات:الوِتْرُ:یکتا، اکیلا، اﷲتعالی کا ایک نام۔فردواحد۔طاق عدد۔عرفہ کادن ،بدلا، انتقام، ظالمانہ بدلہ ۔شعر میں آخری دونوں معانی مراد ہوسکتے ہیں۔ غَشَمْشَمْ:دلیراپنے ارادے سے نہ پھرنے والا۔بہت ظالم۔
4۔۔۔۔۔۔

       فَیَقْتُلَ جَبْرًا بِامْرِءٍ لم یَکُنْ لَّہ،                بَواءً ولٰکِنْ لاتَکَایُلَ بِالدَّمٖ
ترجمہ:

    جوجبر ًاقتل کرے ایسے شخص کے بدلے جس کا کوئی ہمسر نہیں لیکن قصاص میں برابری نہیں ہوتی۔

    ''جَبْرًا''مرزوقی نے لکھاہے کہ یہ قاتل کانام ہے اب ترجمہ ہوگا:جوجبرکوقتل کرے۔

حل لغات :

     ''جَبْرًا''بیروت کے نسخہ میں''حُرًّا''ہے۔ بَوَاءً:برابر،ہم پلہ۔فلانٌبَوَاءُ فلانٍ:قصاص میں برابر ہونا۔
تَکَایُلَ:تَکَایَلَ الرجُلانِ:
ایک دو سرے کے لئے ناپنا۔باہم گالی گلوچ کرنا۔انتقام میں باہم برابری کرنا۔
وَقالَ بَعْضُ بَنِیْ فَقْعَسٍ (الطویل)
شاعر کانام:

     مرہ بن عداء فقعسی ہے۔(کذا قیل)

اشعار کا پس منظر:

    شاعرکودشمنوں نے قیدکرلیاتھااوراس کے رشتہ داروں نے اس کی کوئی مددنہیں کی تو اس موقعہ پر یہ اشعارکہے۔
1۔۔۔۔۔۔

          رَاَیْتُ مَوَالِیَ الْاُلیٰ یَخْذُلُوْنَنِیْ                  عَلٰی حَدَثانِ الدَّھْرِ اِذْ یَتَقَلَّب،
ترجمہ:

    میں چچاکے بیٹوں کو غلطی پر سمجھتاہوں جنہوں نے میری حوادث زمانہ پرکوئی مددنہیں کی جب وہ پلٹا
Flag Counter