| دِيوانِ حماسه |
اشعار کا پس منظر:
بہدل بن فرقہ (جوبنوطی کے چوروں میں سے ایک چورتھا )نے عون بن جعدہ بن ہبیرہ مخزومی کوقتل کیاتو اسے گرفتار کرلیاگیااور عثمان بن حیان مری(جوعبدا لملک بن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کے گورنر تھے) نے اسے قتل کیاتو اس کی بیٹی نے مرثیہ کہتے ہوئے یہ اشعارکہے۔1۔۔۔۔۔۔
دَعادَعْوَۃً یَوْمَ الشَّرٰی یَالَ مالِکٍ ومَنْ لَّایُجَبْ عِنْدَ الْحَفِیْظَۃِ یُکْلَمٖترجمہ:
شری کے دن اس نے مالک کو مد دکے لئے پکارا اور حفاظت کے وقت جسے جواب نہ دیاجائے تووہ زخمی کردیا جاتاہے۔
مطلب:
بہدل نے اپنی قوم کو مددکے لئے پکارا لیکن کسی نے اس کی مددنہیں کی حالانکہ خاندانی غیر ت کاتقاضا تھاکہ قوم اس کی حفاظت کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی لیکن ایسا نہیں ہوا لہذا وہ ضائع ہوگیا۔
حل لغات :
یآل مالک:لام میں دو احتمال ہیں یہ لام استغاثہ ہے دوسرا یہ کہ اصل میں''آل''تھاپھر تخفیفا الف کوحذف کردیاگیا۔ اس صورت میں ترجمہ یوں ہوگا شری کے دن اس نے اٰل مالک کو پکارا۔2۔۔۔۔۔۔
فَیَا ضَیْعَۃَ الْفِتْیَانِ اِذْ یَعْتَلُوْ نَہ، بِبَطْنِ الشَّرٰی مِثْلَ الْفَنِیْقِ الْمُسَدَّمٖترجمہ:
اے لوگو!نوجوانوں کے ضائع ہونے کو دیکھوجب دامن ِ شرٰی میں طاقتور سانڈھ کی طرح اسے سختی سے گھسیٹ کر لے جارہے تھے۔
حل لغات :یَعْتَلونَ:عَتَلَہٗ (ض)عَتْلاً:
بہت زورسے کھینچنا،سختی کے ساتھ گھسیٹنا۔
فی القرآن المجید:
خُذُوہُ فَاعْتِلُوہُ إِلَی سَوَاء الْجَحِیْم۔(44/47)
الفَنِیق:من الابل:
نر اونٹ، سانڈھ۔ج:فُنُقٌ۔المُسَدَّم:طاقتور سانڈھ جسے سواری اور بوجھ اٹھانے کے لئے استعمال نہ کیاجائے اور آزاد چھوڑ دیاجائے کہ چر پھر کر موٹا ہوجائے۔