Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
178 - 324
حل لغات :
    حَاصِنٌ:الحَاصِنُ والحاصِنَۃُ:
پاک دامن عورت۔شادی شدہ عورت ۔
فی القرآن المجید:
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاء إِلاَّ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔(4/24)
رَبْعِیَۃٌ:ربیعہ بن نذارکی طرف نسبت ہے اس سے مراد اسکی اپنی ماں ہے ۔
مَالَأْتُ:ما لَأَہ، علی الامرِمُمَا لَأَۃً:
کسی کام میں کسی کی مدد کرنا،تعاون کرنا۔
2۔۔۔۔۔۔

           اَلَمْ تَرَ اَنَّ الْاَرْضَ رَحْبٌ فَسِیْحَۃٌ                  فَھَلْ تُعْجِزَنِّیْ بُقْعَۃٌ مِنْ بِقاعِھا
ترجمہ:

    کیاتودیکھتانہیں کہ بے شک زمین وسیع وعریض ہے تو کیا اس کے خطوں میں سے کوئی خطہ مجھے عاجز کر سکتا ہے۔

حل لغات :
    رَحْبٌ:الرَّحْبُ:
کشادہ ۔
مَکانُ رَحْبٌ:
کشادہ جگہ۔
رَحِبَ المکانَ(س)رَحَبًا:
جگہ کا کشادہ ہونا۔
رَحُبَ(ک)رُحْبًا:
کشادہ اور فراخ ہونا۔
فی القرآن المجید:
وَضَاقَتْ عَلَیْکُمُ الأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ۔(9/25)
فَسِیحَۃٌ:فَسُحَ المکانُ(ک)فَسَاحَۃً:
کشادہ ہونا۔
ھوفَسِیحٌ ۔ تُعْجِزُنّ:اَعجَزَ فلانٌ:
آگے نکل کر ہاتھ نہ آنا ، پکڑا نہ جانا ۔الشیءُ فلانٌ:کسی چیز کا کسی کے بس میں نہ آنا۔عاجز کردینا۔بُقْعَۃٌ:زمین کا ٹکڑا ۔
فی القرآن المجید:
فِیْ الْبُقْعَۃِ الْمُبَارَکَۃِ۔(28/30)
دھبہ ، داغ۔ج:بُقَعٌ وبِقَاعٌ۔
3۔۔۔۔۔۔

          وَمَبْثُوْثَۃٍ بَثَّ الدَّبٰی مُسْبَطِرَّۃٍ                        رَدَدْتُّ عَلٰی بِطاءِ ھامِنْ سِراعِہا
ترجمہ:

    اور کتنے ہی ٹڈیوں کی طرح پھیلے ہوئے مختلف لشکر ہیں جن کے سست رفتاروں پر میں نے تیز رفتاروں کو لوٹادیا۔

مطلب:

     میں نے کثیر جنگوں میں شرکت کی ہے اور دشمنوں پر ایسے حملے کئے کہ ان کے لشکر کے اگلے حصے کو بھاگنے پر مجبور کیاتو وہ لشکر کے پچھلے حصے سے جاملا۔

حل لغات :
    مبثوثۃ:مفع۔بَثَّ شیءَ (ن)بَثاً:
پھیلانا،منتشر کرنا۔
فی القرآن المجید:
وَزَرَابِیُّ مَبْثُوثَۃٌ۔(88/16)
الدبی:چھوٹی ٹڈی۔ جوڑنے پر قادرنہ ہو۔شہد کی مکھی،
جاء وک الدَّبی:
وہ بڑی تعداد میں آئے۔بِطَاءٌ: مف:بَطِیئ:سست ،سست رفتار،کام میں دیر کرنے والا۔ بَطُوءَ(ک)بُطْأً:سستی کرنا۔ سِراعٌ:مف:
Flag Counter