Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
177 - 324
اپناغلام بنالے گا۔اس شعرمیں شاعر نے اپنے بیٹے اور بھائی کو اپنے ہاتھوں سے تشبیہ دی ہے اور وجہ تشبیہ منفعت ہے۔

حل لغات:
     تَأْسَاءً:مص(تفعیل)اَسَّی بینَھُما:
صلح کرانا۔فلانابِمُصیبَتِہ:تسلی دینا ، دلاسہ دینا۔تَعزِیَۃً (تفعیل)عَزَّاہُ:صبر دلانا،تسلی دینا،ڈھارس بندھانا،غم بھلانا،تعزیت کرنا ۔ التَّعْزِیَۃُ:دلاسہ،تسلی۔ج:
تَعَازِی۔خطابُ التَّعْزِیَۃِ:
تعزیت نامہ۔
2۔۔۔۔۔۔

      کِلَاھُما خَلَفٌ عَنْ فَقْدِ صاحِبِہٖ                  ھذا اَخِیْ حِیْنَ اَدْعُوْہُ وذا وَلَدِیْ
ترجمہ:

    دونوں اپنے ساتھی کی عدم موجودگی میں ایک دوسرے کے نائب ہیں یہ میرا بھائی ہے جب اسے بلاؤں اور وہ میرا بیٹا۔

مطلب:

    جو نقصان ہوناتھا وہ تو ہوگیا،بھائی آخر بھائی ہے مشکل میں کام آئے گا۔انتقام جان لوٹتاہے اور عفو ودرگزر دل لوٹتاہے۔
حل لغات :
    خلَف:مص(ن)فلاناخَلَفاًوخِلافَۃً:
جانشین ہونا۔قائم مقام ہونا۔ خلیفہ ہونا۔
فی القرآن المجید:
فَخَلَفَ مِن بَعْدِھِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاۃَ وَاتَّبَعُوا الشَّہَوَاتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیّا۔(19/59)
فَقْد:مص۔فَقَدَ الشیئَ(ض)فَقْدًا:
کسی کے پاس سے کوئی چیز گم یا ضائع ہوجانا۔
قَالُواْ نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ۔(12/72)
فَقَدَ الصدیقَ وفَقَد تِ المرءَ ۃُزَوجَھا:
دوست یا خاوند سے محروم ہوجانا،ہاتھ دھو بیٹھنا۔
وقال اِیاسُ بْنُ قَبِیْصَۃْ الطَّائِیُّ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کا نام:ایاس بن قبیصۃ طائی (متوفی4ق، ھ/618ء)یہ بنو طی کے اشراف میں سے ہے اور یہ جاہلی شاعر ہے۔
1۔۔۔۔۔۔

          ماوَلَدَتْنِیْ حاصِنٌ رَبْعِیَّۃٌ                       لَئِنْ اَنَا مالاْئتُ الْھَوٰی لِاِ تِّبا عِہا
ترجمہ:

    قبیلہ ربعیہ کی پاک دامن عورت نے مجھے نہ جناہو اگر میں خواہشات کی مدد کروں اس(عورت)کی پیروی کرتے ہوئے ۔
Flag Counter