ترجمہ:
اور تونے ہمیں تختہ پر پڑے ہوئے گوشت کی طرح کرکے چھوڑا کاش کہ کچھ گوشت باقی رکھتا۔
مطلب:
شاعر اپنے مقتول بھائی کو خطاب کررہاہے کہ تیرے بعد ہماری طاقت اس طرح ٹوٹ گئی جیسے اونٹ گھاس کا ستیاناس کردیتاہے اور تیرے جانے سے ہم غیر محفوظ اور کمزور ہوگئے جس طرح بازاری گوشت ہوتا ہے کہ جوچاہے لے جائے اسی طرح اب ہماری بھی کوئی اہمیت نہیں رہی کاش کہ تو اتنی جلدی نہ جاتا۔حل لغات:
وضم:الوَضَمُ:قصاب کی وہ لکڑی یا چٹائی وغیر ہ جس پر وہ مٹی سے بچانے کے لئے یا کاٹنے کے لئے گوشت رکھتاہے۔کھانے کا دستر خوان یا کھانے کی میز۔ج:اَوْضَامٌ واَوْضِمَۃٌ۔ترکَھُم لحمًا علی وضَمٍ:
اس نے ان کو مصیبتوں میں ڈالدیااور کچل کر رکھ دیا، ذلیل کردیا۔
وقال اَعْرَابِیٌّ
اس کے بھائی نے اس کے بیٹے کو قتل کیاجب اس کے بھائی کوپکڑکر لایاگیاتاکہ اسے قصاصا قتل کیاجائے توشاعر نے تلوا رپھینک کریہ اشعار کہے۔
1۔۔۔۔۔۔
اَقُوْلُ لِلنَّفْسِ تَاْساءً وتَعْزِیَۃً اِحْدٰی یَدَیَّ اَصابَتْنِیْ ولم تُرِدٖترجمہ:
میں خود کو تسلی اور دلاسہ دیتے ہوئے کہتاہوں کہ میرے دوہاتھوں میں سے ایک نے نہ چاہتے ہوئے مجھے مصیبت پہنچائی۔
مطلب:
غیر اختیاری طورپر اگر میرے بھائی نے بیٹے کو قتل کردیاتو قصاص میں اسے قتل کرنے سے میرے سینے کی آگ تو بجھ سکتی ہے لیکن فائدہ کچھ بھی نہیں جب کہ معاف کرنے میں کئی فوائد ہیں۔جب تو شریف پر احسان کریگا تو اسے