Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
174 - 324
حل لغات:

    جَللً:عظیم ،بڑا۔معمولی اور چھوٹا۔یہ حروف اضداد میں سے ہے۔حدیث عباس میں ہے
قال یوم بدرٍالقَتْلیٰ جَلَلٌ ماعَدَامُحمَدًا(صلی اللہ تعالی علیہ وسلم )جلل
بمعنی معمولی ہے۔
سطوت:سَطَا(ن)سَطْوًابہ وعلیہ:
کسی پر حملہ کرنا۔مغلوب کرنا۔مضبوط پکڑنا ۔ لَاُوْھِنَنَّ : اوھَنَ:آدھی رات میں داخل ہونا۔فلانا:کمزور کرنا۔
3۔۔۔۔۔۔

           لا تَاْئمَنَنْ قومًاظَلَمْتَھُمْ                            وبَدَاْئتَھم بِالشَّتْمِ وَالرَّغْمٖ
ترجمہ:

    اس قوم سے بے خوف نہ ہو جس پر تم نے ظلم کیااور تونے انہیں گالی دینے اور ذلیل کرنے کا آغاز کیا۔

حل لغات:
    لاتَامَنَنَّ:اَمِنَ(س)اَمَنًا:
مطمئن ہونا:
فی القرآن المجید:
وَإِذَا جَاء ہُمْ أَمْرٌ مِّنَ الأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُواْ بِہِ(4/83)
اَلشَّتْمِ:مص۔ شَتَمَہ، (ض،ن)شَتْمًا:
گالی دینا۔اَلرَّغْم:مص۔رَغَمَ(ف)رَغْمًا:ذلیل ہونا۔ناپسندید گی کی بناء پرحقیر وذلیل ہونا ۔ رَغِمَ اَنْفُہ،:نا پسند کرنا،اظہار ناگواری کرنا۔
فی الحدیث:واِنْ رَغَمَ اَنْفُ اَبِی الدرداءِ ۔ الرُّغْمُ:
نفرت،ذلت،خواری،ناگواری۔
4۔۔۔۔۔۔

            اَنْ یَّاْبِرُوْا نَخْلًالِغَیْرِھِمْ                                وَالشَّیْءُ تَحْقِرُہ، وقد یَنْمِی
ترجمہ:

    کہ وہ دوسروں کی کھجور کی اصلاح کریں گے اور تو جس شی کو حقیر سمجھ رہاہے بسااوقات بڑی ہوجاتی ہے۔

مطلب:

    کسی پر ظلم وزیادتی کرکے بے خوف ہوجانانادانی ہے۔کماتدین تدانُ:جیساکروگے ویسابھروگے۔ کمزوردیکھ کرلڑو مت موٹادیکھ کر ڈرو مت۔

حل لغات:
یَا بَرُوا:اَبَرَ النَّخْلَ(ن،ض)اَبْرًا:
کھجور کے درخت کو قلم لگانا۔ الزرعَ:درست کرنا۔نَخْلاً:کھجور کا درخت۔ وَالشَّیْئُ:بیروت کے نسخے میں''والامرُ''ہے۔
تَحْقِرُ:حَقَرَالشیئَ(ض)حَقْرًا:
ذلیل وحقیر سمجھنا۔ ذلیل کرنا۔
ھومَحْقُورٌ:حَقُرَ(ک)حَقْرًا:
ذلیل ہونا،بے قیمت ہونا اور معمولی ہونا۔ ھو حَقِیرٌ۔ یمنی:نَمَی الحَدِیثُ(ض)نَمَاءً:پھیلنا،عام ہونا۔نَمَی الشیئُ(ن)نَمَاءً:بڑھنا۔ کثیر ہونا۔
Flag Counter