Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
172 - 324
3۔۔۔۔۔۔

        ولَمَّا رَاَئیْتُ اَنَّنِیْ قد قَتَلْتُہ،                    نَدِمْتُ عَلَیْہِ اَیَّ ساعَۃِ مَنْدَمٖ
ترجمہ:

    جب میں نے دیکھاکہ اسے قتل کرچکاہوں تو اس پر پشیمان ہوا پشیمانی کا کیساعظیم (سخت)وقت تھا۔

حل لغات:
    ندمتُ:نَدِمَ(س)نَدَماً:ونَدَامَۃً
کئے پر نادم وپشیمان ہونا۔
فی القرآن المجید:
وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ ۔(10/54)
مندم:مصدر میمی۔ ندامت، پشیمانی۔
                وقال قَیْسُ بْنُ زُھَیْرِ بْنِ جَذِیْمَۃَ الْعَبْسِیُّ (الوافر)
شاعر کانام :

    قیس بن زہیر یہ بنو عبس کے سرداروں میں سے ہے ، جاہلی شاعرہے۔

اشعار کا پس منظر:

    شاعر کاداحس نامی گھوڑا تھااور حذیفہ بن بدر ذبیانی کا غبراء نامی گھوڑا تھاان دونوں نے گھوڑوں کا مقابلہ رکھااور بیس اونٹ انعام مقرر ہواجب معاملہ طے ہوگیا تو حذیفہ نے اپنی قوم کے کچھ لوگ تیار کئے انہیں حدف کے قریب بیٹھنے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر داحس ،غبراء سے نکلنے لگے تو اسے تھپڑمارناتو جب داحس گھوڑا غبراء گھوڑے سے سبقت کرنے لگاتو عمیر بن نضلۃنے اسے تھپڑمارالہذاوہ سبقت لے جانے سے محروم رہاجب شاعر کو اس واقعہ کا پتہ چلاتو مالک بن زہیر نے غبراء کے چہرے پر طمانچہ رسید کیاادھرسے حمل بن بدر نے انتقاماً مالک کے چہرے پر طمانچہ ماراپھر مسئلہ قتل وغارت گری تک پہنچااور دونوں قبیلوں کے درمیان جنگ چھڑگئی اور دونوں آپس میں رشتہ دار تھے شاعر ان اشعارمیں حسرت ویاس کا اظہار کررہاہے۔
1۔۔۔۔۔۔

            شَفَیْتُ النَّفْسَ مِنْ حَمَلِ بْنِ بَدْرٍ                      وسَیْفِیْ مِنْ حُذَیْفَۃَ قد شَفانِیْ
ترجمہ:

    میں نے اپنی جان کو حمل بن بدرسے شفاء دی اور میری تلوار نے حذیفہ سے شفاء دی۔

حل لغات:
     شَفَیْتُ:شفی اﷲالعلیلَ(ض)شِفَاءً:
بیماری سے اچھا کرنا۔ شفا دینا ۔
فی القرآن المجید:
وَشِفَآءٌ
Flag Counter