Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
170 - 324
ترجمہ:

    کھوپڑیوں سے ٹکرانے کی وجہ سے ان کا رنگ سرخ سیاہی مائل ہے اگرچہ پالش کے ذریعے نئی کی جاتی ہیں۔

حل لغات:

    لَوْ نٌ:رنگ۔نوع،قسم۔ج:
اَلْوَان۔فی القرآن المجید:
قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنۡ لَّنَا مَا لَوْنُہَا  (2/69)
کاب:کبا الحَیْوَانُ(ن)کبْوًا:
منہ کے بل گرنا۔ الرجُلُ:ٹھوکر کھانا۔
لونُ الصبح وَالشمسِ:
روشنی کم ہونا۔رنگ پھیکا ہونا۔الکابِ:سطح زمین پر نہ ٹھرنے والی مٹی ۔بجھاہوا کوئلہ۔لونٌکابٍ:ہلکا رنگ۔ (مفاعلہ) تحادث:حادثَہ،:بات چیت کرنا،مکالمہ کرنا،السَّیفَ ونحوہ،:نیا کرنا۔صاف کرنا۔
4۔۔۔۔۔۔

       ونَبْکِیْ حینَ نَقْتُلُکُمْ عَلَیْکم                          ونَقْتُلُکُمْ کَاَ نَّا لا نُبَالِیْ
ترجمہ:

    ہم تم پر روتے ہیں جب تمہیں قتل کرلیتے ہیں اور تمہیں ایسے قتل کرتے ہیں جیسے ہمیں پرواہ ہی نہیں

مطلب:

     جنگ کی آگ میں قتل تو کردیتے ہیں لیکن قتل کرنے کے بعد رشتے داری یاد آتی ہے تو پھر کفِ افسوس ملتے ہوئے روتے ہیں۔

حل لغات:

نُبَالِیْ:(مفاعلۃ)بالی فلانٌ:توجہ دینا۔
وقال القَّتالُ الْکِلابِیُّ (الطویل)
شاعر کاتعارف:

    شاعر کا نام عبد اللہ بن مجیب بن المضرحی بن عامر ہے اوریہ مروان کے دور کے اسلامی شاعر ہیں۔

اشعار کا پس منظر:

    یہ اپنے چچا کی بیٹی سے اس کے بھائی ''زیاد''کی عدم موجودگی میں باتیں کررہاتھاجب ''زیاد''نے اسے دیکھ لیا تو اسے منع کیااور کہا:بخدااگر آئندہ میں نے تجھے اپنی بہن سے بات چیت کرتے ہوئے دیکھ لیاتو تجھے قتل کردوں گا،زیاد نے پھر اسے اپنی بہن سے باتیں کرتے ہوئے دیکھ لیا تو تلوار اٹھا کر اسے قتل کرنے لگا،قتال بھاگ گیا اوریہ اس کے پیچھے
Flag Counter