ترجمہ:
اے آل عمرو ہم اپنے سرداروں کی ناراضگی کے باوجود صبح کے وقت پالش شدہ دھاری دارتلواروں کے ساتھ تم پر حملہ کریں گے۔
مطلب:
ہمارے سردار جنگ وجدال کو پسند نہیں کرتے وہ صلح چاہتے ہیں لیکن ہم اس کے باوجود حملہ کریں گے۔ایک مطلب یہ بھی ہوسکتاہے کہ''سراۃ''سے قوم کے تمام افراد مراد ہوں یعنی ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن تم نے ہمیں جنگ کرنے پر مجبور کردیا۔
حل لغات:
کرہ :الکَرْہُ:جسمانی یا خارجی مشقت،سختی،تکلیف۔فی القرآن المجید:
وَوَصَّیْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَیْہِ إِحْسَاناً حَمَلَتْہُ أُمُّہُ کُرْہاً وَوَضَعَتْہُ کُرْہاً۔ (46/15)
کُرھًا:جبرا، مجبورا ، بادل نخواستہ۔
سراۃ:سراۃُ کل شیئٍ:
ہرچیز کا اعلی اور بالائی حصہ ۔درمیانی حصہ ۔بڑا حصہ ۔ یہا ں مراد سردارہے۔
نغادی:غادَ ی مُغاداۃً الرجُلَ:
کسی پا س صبح سویرے آنا۔
مرھفۃ:مفع:اَرْھَفَ السَیفَ:
تلوار کی دھار پتلی کرنا۔ سَیف ٌمُرْھَفٌ:تیز پتلی دھارکی ہوئی تلوار ۔
2۔۔۔۔۔۔
نُعَدِّ یْھِنَّ یومَ الرَّوْعِ عَنْکم واِنْ کانَتْ مُثَلَّمَۃَ النِّصالٖترجمہ:
جنگ کے دن ہم انہیں تم سے واپس کریں گے اس حال میں کہ ان میں دندانے پڑچکے ہوں گے۔
حل لغات:
مُثَلَّمَۃٌ:مفع:المُثَلَّمُ:رخناپڑا ہوا،عیب دار،شکستہ ،کندکیاہوا۔ النصال:مف:النَّصْلُ:نیزے،تیر،تیز چھری کالوہے کا پھلکا،چرخے سے کاتاہوا سوت ۔سر اور گردن کے درمیان کا جوڑ۔جودونوں جبڑوں کے نیچے ہوتاہے۔3۔۔۔۔۔۔
لَھالَوْ نٌ مِنَ الْھاماتِ کَابٍ واِنْ کانَتْ تُحادَثُ بِالصِّقالٖ