Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
167 - 324
وقال الْحُصَیْنُ بْنُ الْحُمامِ الْمُرِیُّ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کانام:حصین بن حمام مری ہے اور یہ مخضرمی شاعراور صحابی ہیں۔ مرزوقی اوربیروت کے نسخہ میں انہیں''جاہلی شاعر ''لکھا گیا ہے(متوفی 10 ق ،ھ/612ء)۔
1۔۔۔۔۔۔

          تَاَخَّرْتُ اَسْتَبْقِی الْحَیاۃَ فَلَمْ اَجِدْ                  لِنَفْسِیْ حَیاۃً مِثْلَ اَنْ اَتَقَدَّمَا
ترجمہ:

    میں زندگی کی بقاء چاہتے ہوئے پیچھے ہٹا لیکن زندگی کو پیش قدمی کی مثل نہیں پایا۔

مطلب:

    پیش قدمی کرنے اور دشمن پر حملہ کرنے میں جو نشہ اور شہرت ہے وہ زندہ رہنے میں نہیں کیونکہ پیش قدمی کرنے والے اورڈٹ کردشمن کا مقابلہ کرنے والے کی تعریف کی جاتی ہے اور جس کاذکر ِخیر باقی ہو وہ زندہ ہی ہے اگرچہ اس کا جسم فناہوجائے۔
 (شرح مرزوقی ج1ص5،146 بیروت)
حل لغات:
     تَاَخَّرْتُ:تأخَّرَ واستأخَر:
پیچھے رہنا۔ اَسْتَبْقِی :اِسْتَبْقا ہ،:ثابت کرنا۔باقی رکھنا۔منہ:کچھ حصہ چھوڑدینا۔اَتقدم:تقدَّمَ:آگے بڑہنا۔
فی القرآن المجید:
بہت پیش قدمی کرنے والاہونا۔مقدم ہونا۔القومَ:قوم سے سابق ہونا۔الیہ بِکَذا:حکم دینا۔
2۔۔۔۔۔۔

         فَلَسْنَا عَلَی الْاَعْقَابِ تَدْمٰی کُلُوْمُنَا                ولٰکِنْ عَلٰی اَقْدَامِنَا تَقْطُرُالدَّمَا
ترجمہ:

    ہم ایسے لوگ نہیں کہ ہمارے زخم ایڑیوں پر خون بہائیں لیکن ہمارے قدموں پر خون ٹپکتاہے۔

مطلب:

     ہم بہادر ہیں بہادروں کی طرح دشمن کی طرف منہ کرکے لڑتے ہیں جس کے نتیجے ہم آگے سے زخمی ہوتے ہیں،بزدلوں کی طرح پیٹھ پھیر کر بھاگتے نہیں کہ ہم پیچھے سے زخمی ہوں۔
Flag Counter