وَلاَ تَنَازَعُواْ فَتَفْشَلُواْ وَتَذْھَبَ رِیْحُکُمْ وَاصْبِرُوا۔(8/46)
عن الامرِ:کسی کا م کا ارادہ کرکے پیچھے ہٹ جانا۔
2۔۔۔۔۔۔
اَلْقَوْمُ اَمْثَالُکم لَھُمْ شَعَرٌ فِی الرَّاْسِ لایُنْشَرُوْنَ اِنْ قُتِلُوْا
ترجمہ :
وہ قوم تمہاری طرح ہے ان کے سروں میں بال ہیں اگر قتل کئے جائیں تو (دوبارہ)نہیں اٹھائے جائیں گے۔
مطلب:
اے خزاعہ تمہارے دشمن تمہار ی طرح ہی انسان ہیں ، تمہاری اور ان کی تخلیق ایک جیسی ہے اگر وہ قتل ہو جائیں تو فوراً زندہ ہو کر دوبارہ نہیں لڑیں گے۔
(شرح مرزوقی ج 1 ص 145 بیروت)
حل لغات:
اَلشَّعْرُ:بال ۔نبات، پودا۔
ج:اَشْعَارٌ وشُعُوْرٌ۔ یُنْشِرُوْنَ :نَشْراً و نُشُوراً:
مردوں کو زندہ کرکے اٹھانا۔
کُلُوا مِن رِّزْقِہ وَٳلَیْہِ النُّشُور (15/67)
نَشِرَ الشیء: (س)نَشْراً:
3۔۔۔۔۔۔
اَکُلَّما حارَبَتْ خُزاعَۃُ تَحْدُ وْنِیْ کَاَنِّیْ لِاُمِّھِمْ جَمَل،
ترجمہ:
کیاجب بھی بنوخزاعہ لڑیں گے تو مجھے ہانک کر لے جائیں گے جیسے میں ان کی ماں کااونٹ ہوں
حارَبَتْ:(مفاعلۃ)حَارَبَہ، حِرَابًا ومُحَارَبَۃً:
لڑائی کرنا۔اللہَ: نا فرمانی کرنا۔
إِنَّمَا جَزَاء الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّہَ وَرَسُولَہُ ۔ (5/33)
تحدو:حَداالابِلَ وبھا(ن)حُدَاءً:
اونٹ کو ہکانا۔اور حُدِی(اونٹ کو ہکانے کا گانا )کے ذریعے تیز چلنے پر اکسانا۔فلاناعلی کذا:آمادہ کرنا، اکسانا۔ الشیءَ حَدْوًا:پیچھے لگنایا پیچھے چلنا۔