ملامت کرنا۔اَلْمَلامَۃُ:ملامت ،خوف۔ ج:
اَلمَلاوِمُ ۔ مُلِیْمٌ:فا:اَلامَ فلانٌ:
ایسی حرکت کرناجو ملامت کا باعث ہو۔قابل ملامت ہونا۔
ۚفَالْتَقَمَہُ الْحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ۔(37/142)
فلانًا:الَمُلِیْمُ:ملامت کرنا۔
وقال الشَّداخُ بْنُ یَعْمَرَ الْکِنانِیُّ(المنسرج)
شاعر کا نام:
شداخ بن یعمرکنانی ہے ۔
اشعار کا پس منظر:
بنوکنانہ اوربنو خزاعہ آپس میں حلیف تھے(ان کاباہم معاہدہ تھاکہ اگر کسی دشمن نے ہم میں سے کسی قبیلے پر حملہ کیا تودوسرا قبیلہ اس کی مدد کریگا)خزاعہ اور بنو اسد کے درمیان جنگ ہوگئی اور بنو اسد غالب آئے تو خزاعہ نے حلیف ہونے کی بناپربنو کنانہ سے مدد طلب کی تو شداخ نے بنو اسد کی رشتہ داری کاتذ کرہ کرتے ہوئے بنو کنانہ کو بنو خزاعہ کی مددنہ کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
(حاشیہ شرح مرزوقی ج1ص144بیروت)
1۔۔۔۔۔۔
قاتِلِی الْقومَ یَاخُزاعُ ولا یَدْ خُلْکُمْ مِنْ قِتَالِھِمْ فَشَل،
ترجمہ:
اے خزاعہ قوم سے لڑواور ان سے لڑنے میں تم میں بزدلی داخل نہ ہو۔
مطلب:
اے قوم خزاعہ اپنی دشمن قوم بنواسد سے لڑوبزدلی کامظاہر نہ کرواور نہ ہی کسی اورکی مددکی امید رکھو۔