Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
165 - 324
کہیں گے تومیری ہجو کریں گے اوراس طرح ہمیشہ کی ذلت ورسوائی میرا مقدر بن جائے گی۔ 

حل لغات:

     ذَکَرْتُ:اس کا مصدر''اَلذُّکْرُ'' بضم الذال ہے کیونکہ اس کاتعلق دل سے ہے یعنی سوچنا،اور شاعر نے بھی سوچا اورخیال کیا تھا اور''اَلذِّکْرُ'' بکسرالذال زبان سے ہوتاہے۔
 (شرح مرزوقی ج1ص144 بیروت)
تَعِلَّۃٌ:جس کے ذریعے بھلایاجائے۔مراد یہاں قصہ کہانیاں ہیں۔اِلْحاقٌ:مص (افعال) اَلْحَقَ:پالینا۔ آملنا۔ ہ، بفلانٍ:ملادینا۔لاحق کردینا۔
اَلْمَلامَۃُ:مص:لامہ، فی کذاوعلی کذا(ن)مَلامَۃً:
ملامت کرنا۔اَلْمَلامَۃُ:ملامت ،خوف۔ ج:
اَلمَلاوِمُ ۔ مُلِیْمٌ:فا:اَلامَ فلانٌ:
ایسی حرکت کرناجو ملامت کا باعث ہو۔قابل ملامت ہونا۔
فی القرآن المجید:
ۚفَالْتَقَمَہُ الْحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ  ۔(37/142)
فلانًا:الَمُلِیْمُ:ملامت کرنا۔
وقال الشَّداخُ بْنُ یَعْمَرَ الْکِنانِیُّ(المنسرج)
شاعر کا نام:

     شداخ بن یعمرکنانی ہے ۔

اشعار کا پس منظر:

    بنوکنانہ اوربنو خزاعہ آپس میں حلیف تھے(ان کاباہم معاہدہ تھاکہ اگر کسی دشمن نے ہم میں سے کسی قبیلے پر حملہ کیا تودوسرا قبیلہ اس کی مدد کریگا)خزاعہ اور بنو اسد کے درمیان جنگ ہوگئی اور بنو اسد غالب آئے تو خزاعہ نے حلیف ہونے کی بناپربنو کنانہ سے مدد طلب کی تو شداخ نے بنو اسد کی رشتہ داری کاتذ کرہ کرتے ہوئے بنو کنانہ کو بنو خزاعہ کی مددنہ کرنے کی ترغیب دلاتے ہوئے یہ اشعار کہے۔
 (حاشیہ شرح مرزوقی ج1ص144بیروت)
1۔۔۔۔۔۔

        قاتِلِی الْقومَ یَاخُزاعُ ولا               یَدْ خُلْکُمْ مِنْ قِتَالِھِمْ فَشَل،
ترجمہ:

    اے خزاعہ قوم سے لڑواور ان سے لڑنے میں تم میں بزدلی داخل نہ ہو۔

مطلب:

    اے قوم خزاعہ اپنی دشمن قوم بنواسد سے لڑوبزدلی کامظاہر نہ کرواور نہ ہی کسی اورکی مددکی امید رکھو۔
 (شرح مرزوقی ج1ص144بیروت)
Flag Counter