4۔۔۔۔۔۔
فَصَدَدْتُّ عَنْھُمْ وَالْاَحِبَّۃُ فِیْھِمْ طَمَعًا لَّھُمْ بِعِقابِ یومٍ مُرْصَدٖترجمہ:
تو میں ان سے واپس ہوا حالانکہ میرے پیارے ان میں تھے،ان کے لئے معین دن کی سزا کی امید کرتے ہوئے۔
مطلب:
میں سمجھ گیا کہ اب میدان جنگ میں رہنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ جان جانے کا اندیشہ ہے لہذا میں وہاں سے لوٹ آیایہ سوچ کر کہ پھر کبھی انتقام لے لیں گے حالانکہ میر ابھائی ابوجہل ااور دیگر عزیزواقارب وہاں تھے۔
حل لغات:صَدَّ عَنہ(ن)صَدًّا:
منہ پھیرنا۔رکنا،باز رہنا، ہٹنا۔ منہ (ض)صَدًّا:چلانا، شورمچاتے ہوئے ہٹ جانا۔
فی القرآن المجید:
وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذَا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ۔(43/57)
الْاَحِبَّۃُ:مف:اَلْحبیب:
عاشق۔ معشوق۔
طمع:مص۔طمع فیہ وبہ(س)طَمَعًا:
خواہش مند ہونا،رغبت رکھنا۔
وَادْعُوہُ خَوْفاً وَطَمَعا ۔ (7/56)
حریص ہونا۔
عِقَاب:مص(مفاعلۃ)عاقبہ بذنبہ وعلی ذنبہ:
مواخذہ کرنا، کئے پر سزا دینا۔
مُرْصَدٌ:(افعال)اَرْصَدَالشیءَ لہ،:
کسی کیلئے کوئی چیز تیار کرنا۔جیسے:
ارصد الجیشَ للقتالِ والفرسَ للطرادِ:
فوج کو لڑنے کیلئے اور گھوڑے کو مسلسل دوڑنے کیلئے تیارکرنا۔
وقال الْفَرَّارُ السُّلَمِیُّ(الکامل)
شاعر کا تعارف :
شاعر کا نام:حیّان بن حکم(فرا ر)سُلَمِی ہے یہ مخضرمی شاعر ہیں، فتح مکۃ المکرمۃ کے دن سر ور ِ دو عالم شاہ ِ بنی آدم(فِدَاہُ رُوْحِیْ وَجَسَدِیْ) صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم
کے ساتھ تھے۔
1۔۔۔۔۔۔
وَکَتِیْبَۃٍ لَبَّسْتُھا بِکتیبۃٍ حَتّٰی اِذَاالْتَبَسَتْ نَفَضْتُ لَھا یَدِیْترجمہ:
اور کتنے ہی ایسے لشکر ہیں کہ میں نے انہیں دوسرے لشکرسے ملادیا جب وہ گتھم گتھا ہوگئے تو میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔