| دِيوانِ حماسه |
نے انہیں طعنہ دیاتو اس طعنہ کودور کرنے کیلئے انہوں نے ان اشعار میں اپنے فرار ہونے کی وجہ کوبیان کیا۔ بعد میں مشرف باسلام ہوکر ابدی سعادتیں حاصل کیں اور جلیل القد ر صحابہ میں شمار ہونے لگے پھرغزوہ یرموک میں جامِ شہادت نوش کیا ۔
1۔۔۔۔۔۔
اَﷲُ یَعْلَمُ ما تَرَکْتُ قِتالَھُمْ حَتّٰی عَلَوْا فَرَسِیْ بَاَشْقَرَ مُزْبِدٖترجمہ:
اﷲ جانتاہے کہ میں نے ان سے لڑائی ترک نہیں کی یہاں تک کہ وہ جھاگ دار سرخ خون کے ساتھ میرے گھوڑے پر چھاگئے۔
حل لغات:قِتَال:مص۔(مفاعلۃ)قَاتَلَ:
لڑنا۔دشمنی کرنا۔اَشْقَرَ:صفت۔ج:
شُقْر۔شَقُرَ(س،ک)شَقْرًا:
سرخ زردرنگ کا ہونا۔ مُزْبِدْ:فا۔ اَزْبَدَ:جھاگ لانا،جھاگ نکالنا۔
2۔۔۔۔۔۔
وشَمَمْتُ رِیْحَ الْمَوتِ مِنْ تِلْقاءِ ھِمْ فِیْ مَاْزِقٍ وَالْخَیْلُ لَمْ تَتَبَدَّدترجمہ:
میں نے تنگ میدان جنگ میں ان کی طرف سے موت کی بو سونگھی اور گھوڑے منتشر نہیں ہورہے تھے۔ہوا جب مجھے سامنا موت کا کٹھن تھا بڑا تھامنا موت کا
حل لغات:
شَمَمْتُ:شَمَّہ،(ن)شَمًّا:
سونگھنا۔(بیروت نسخہ میں وجدت ہے)
تِلْقَاء:مص:لَقِیَ(س)لِقاءًو تِلْقَاءً:
ملاقات، سامنا۔ تَبَدَّدَ:منتشر ہونا۔بکھرنا۔برباد ہونا۔حصہ لینا۔
3۔۔۔۔۔۔
وعَلِمْتُ اَنِّیْ اِنْ اُقاتِلْ وَاحِدًا اُقْتَلْ ولا یَضُرُّ عَدُوِّیَ مَشْھَدِیْترجمہ:
اور میں نے جان لیا کہ اگر اکیلا لڑوں گا تو قتل کردیاجاؤں گااور میراحاضر رہنا میرے دشمن کو کوئی نقصان نہیں دے گا۔
حل لغات:
مَشْھَد:موجودگی،اجتماع۔منظر،آنکھوں دیکھی چیز۔جمع ہونے کی جگہ۔ اجتماع گاہ۔فَوَیۡلٌ لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا