Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
159 - 324
8۔۔۔۔۔۔

        مَتٰی یَاْتِ ھٰذَاالْمَوْتُ لا تُلْفَ حاجَۃٌ               لِنَفْسِیْ اِلَّا قد قَضَیْتُ قَضَاءَ ھا
ترجمہ:

    جب یہ موت آئے گی تو میری کوئی حاجت نہیں پائی جائے گی مگر میں اسے پورا کرچکا ہوں گا

حل لغات:

     تُلْف:(افعال)اَلْفاَہُ:پانا۔
فی القرآن المجید:
وَأَلْفَیَا سَیِّدَھَا لَدَی الْبَابِ۔(12/25)
اچانک ملاقات کرنا۔الحَاجَۃُ:ضرورت ۔ضرورت کی چیز۔ غرض۔ ج:
حَاجَات وحَاجٌّ۔حَا جاتُ المَنْزِلِ۔
گھر کا سامان۔
قضٰی(ض)قَضَاءً الشیئَ:
مضبوطی کے ساتھ بنانا اور اندا زہ کرنا۔حاجَتَہ،:ضرورت کو پورا کرنااور اس سے فارغ ہونا۔
9۔۔۔۔۔۔

         ثَاَئرْتُ عَدِیًّا والْخَطِیْمَ فَلَمْ اُضِعْ                     وِلَایَۃَ اَشْیاخٍ جُعِلْتُ اِزاءَ ھا
ترجمہ:

    میں نے عدی اورخطیم کا انتقام لے لیا کیونکہ بزرگوں کی جس ولایت کا مجھے نائب بنایا گیاتھا میں نے اسے ضائع نہیں کیا۔

حل لغات:

    وِلایَۃٌ:رشتہ،قرابت۔زیر اقتدارعلاقہ،ریاست۔صوبہ،اسٹیٹ۔ حکومت ، امارت،سلطنت ،وہ ممالک جن پر ایک حاکم قابض ہو۔ج:
وِلَایَات۔اَشیاخٌ:وشُیُوخٌ:مف:اَلشَّیْخُ:
عمر رسیدہ (تقریبا پچاس سال کا،اس کے بعد ''ھَرِمٌ''کا درجہ ہے) امیرِ جماعت ، سردار قبیلہ۔گاؤں کا چو دھری۔ اِزاءٌ:مقابل،سامنے
وقَالَ الَحارِثُ بْنُ ھِشامِ بْنِ الْمُغِیْرَۃِ بْنِ عَبْدِ اﷲِبْنِ عَمْرِوبْنِ مَخْزُوْمٍ (الکامل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کا نا م:حا رث بن ہشام بن مغیرہ بن عبد اﷲبن عمروبن مخزوم ہے (18ھ/639ء)اور یہ ابو جہل کے بھائی تھے ۔

اشعار کا پس ِمنظر:

    جنگ بدرمیں مشرکین کی جانب سے شریک ہوئے اورمیدان جنگ سے فرار ہوگئے تھے،اس پر حسان بن ثابت
Flag Counter