| دِيوانِ حماسه |
میں نے نیزہ زنی کا حق ادا کردیا۔
مطلب:
میں نے نیزہ زنی کا حق ادا کرتے ہوئے ایساگہرااور خطرناک زخم کیا تھاجو کئی زخموں کے قائم قام تھا اور اتنا کشادہ تھا کہ اگر کوئی سامنے کھڑا ہوتا تو با آسانی پیچھے کی اشیاء دیکھ سکتااور علاج کرنے والیاں حیرت سے باربار دیکھتیں۔
حل لغات:یَھُوْنُ:ھانَ فلانٌ(ن)ھُونًا:
حقیر وذلیل ہونا۔
الشیءُ علیہ ھَونًا:
کسی کے لئے کوئی چیز آسان ہونا۔ہلکاہونا۔
فی القرآن المجید:
یَمْشُونَ عَلَی الْأَرْضِ ھَوْناً۔ (25/63)
بے وقعت ہونا۔
وَتَحْسَبُونَہُ ہَیِّناً وَھُوَ عِنۡدَ اللہِ عَظِیْمٌ ۔(24/15)
ج:اَھْوِناءُ ۔ جِراحٌ:مف:جِرَاحَۃٌ:زخم ۔سرجری،جسم کو کاٹ تراش کر علاج کرنے کا پیشہ۔سرجری آپریشن ۔ج:
جَرائِحُ۔ اَلْاَوَاسِیْ:مف:آسِیَۃٌ۔اَسٰی بینھما(ن)اَسْوًا:
صلح کرانا ۔ الجَرَحَ والشیئَ:درست کرنا۔المرضَ والمَرِیضَ:علاج کرنا ،دوائی تجویز کرنا۔ حمدہ (ف)حَمْدًا: تعریف کرنا،سراہنا۔فلانا:بدلہ دینا،شکریہ ادا کرنا۔ بلاء: آزمائش، مصیبت۔ رنج وغم۔زبردست کوشش۔
4۔۔۔۔۔۔
وساعَدَنِیْ فیھا ابْنُ عَمْرِوبْن عامِرٍ خِداشٌ فَاَدّٰی نِعْمَۃً واَفاءَ ھاترجمہ:
اور اس نیزہ زنی میں عمرو بن عامر کے بیٹے خداش نے میری مدد کی اوراس نے احسان کا پوراپورا حق ادا کرتے ہوئے اسے لوٹادیا ۔
حل لغات:ساعد:ساعدہ علی الامرِ مُساعَدۃً:
مدد کرنا۔
ادَّی:الشیءَ تأدِیَۃً:
انجام دینا۔ادا کرنا۔افاء الامرَ:لوٹانا۔
فی القرآن المجید:
وَمَا أَفَاء اللَّہُ عَلَی رَسُولِہ ِ ۔(59/6)
شیخ مرزوقی نے کہاکہ ابو عبیدہ کاقول ہے:اَفَاء ھا''فیئ''بمعنی''غنیمۃ''سے ہے۔ اورپھر دوسرا احتمال بیان کر تے ہوئے کہاکہ''فیئ''بمعنی ''رجوع''بھی آتاہے ترجمہ اسی کے مطابق کیاگیاہے۔
(شرح دیوان حماسۃ ج1ص138 بیروت)
5۔۔۔۔۔۔
وکُنْتُ امْرَءً لا اَسْمَعُ الدَّھْرَ سُبَّۃً اُسَبُّ بِھا اِلَّا کَشَفْتُ غِطاءَ ھاترجمہ:
میں ایسا شخص ہوں کہ کبھی بھی گالی (طعنہ)نہیں سنتاجس کے ذریعے مجھے عار دلائی جائے مگر اس عار کو دور کرتاہوں۔