Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
156 - 324
لوگوں کواپنے ساتھ لے جانا معیوب سمجھا اور اکیلا ہی چل پڑا۔ جب وہا ں پہنچے جہاں خداش چھپ کر بیٹھا ہو ا تھا، اسی اثناء میں خداش اس کے سامنے کھڑا ہوگیااور شاعر نے اس کی کوکھ میں نیزہ مار کر قتل کردیا، پھر کئی دن دونوں ریگستان میں رو پوش رہے اور جب معاملہ ٹھنڈا ہوگیا تو اپنے وطن واپس لوٹ گئے ۔
1۔۔۔۔۔۔

       طَعَنْتُ ابْنَ عَبْدِالْقَیْسِ طَعْنَۃَ ثائِرٍ                 لَھا نَفَذٌ لولا الشَّعاعُ اَضَاءَ ھَا
ترجمہ:

    میں نے انتقام لینے والے کے نیزہ مارنے کی طرح عبد القیس کے بیٹے کو نیزہ مارا جس سے ایسا سوراخ ہوگیا کہ اگر خون نہ پھیلتاتووہ (سوراخ)اس(زخم کی گہرائی)کوواضح کردیتا۔ 

حل لغات:
     ثَائِرٌ:فا، ثأرَالقتِیلَ وبِہٖ(ف)ثارًا:
انتقام لینا،مقتو ل کے خون کا بدلہ لینا،القاتِلَ:قاتل کو مارڈالنا،الشَعاع:خون وغیر ہ کا بکھرنا ،ہلکا سایہ ،ہر بکھری ہوئی چیز۔ نَفَذٌ:جاری کرنا ،پھٹن،نکلنے کی جگہ ،رہائی کی جگہ ۔ج:
اَنْفَاذ۔طَعْنَۃٌ لھا نَفَذٌ:
چیر کر نکل جانے والے نیزے کی ضرب۔
اضاءَ(افعال)اِضَاءَۃً:البیتُ:
روشن ہونا،البیتَ:روشن کرنا۔
2۔۔۔۔۔۔

       مَلَکْتُ بِھَا کَفِّیْ فَاَنْھَرْتُ فَتْقَھَا                   یَرٰی قائِمٌ مِنْ دُوْنِھَا ماوَرَاءَ ھا
ترجمہ:

    میں نے اپنی ہتھیلی میں مضبوطی سے نیزہ پکڑکراس کے زخم کو اتنا کشادہ کردیا کہ سامنے کھڑا ہونے والاپیچھے والی اشیاء دیکھ سکتاہے۔ 

حل لغات:
     مَلَکْتُ:ملک الشیئَ(ض)مَلْکًا:
مالک ہونا۔(قبضہ کے ساتھ حسب منشا تنہا تصرف کرنا)یہا ں مرادہے مضبوطی سے تھامنا۔ اَنْھَرْتُ:اَنْھَرَ:دن میں داخل ہونایا دن میں کوئی کام کرنا۔اَلْفَتْقُ:شگاف کو چوڑا کرنا۔اَلْفَتْقُ: مص :کشادہ جگہ ۔ج:فُتُوقٌ۔ اَلْوَراءُ:پوتا،پوتی۔چوری اور مضبوط ہڈیوں والا آدمی ۔آنکھوں سے اوجھل آگے ہو یا پیچھے۔
فی القرآن المجید:
مِّنۡ وَّرَآئِہٖ جَہَنَّمُ ۔(14/16)
3۔۔۔۔۔۔

         یَھُوْنُ عَلَیَّ اَنْ تَرُدَّ جِرَاحُھا                       عُیُوْنَ الْاَوَاسِیْ اِذْ حَمِدْتُّ بَلاءَ ھَا
ترجمہ:

    میرے لئے یہ بات آسان ہے کہ اس کے زخم علاج کرنے والیوں کی آنکھوں کو (حیران کرکے)لوٹادیں کیونکہ
Flag Counter