Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
155 - 324
ہوجانا، بھٹکنا۔
یُوْعِدُ:(افعال)اَوْعَدَ الفحْلُ:
سانڈھ کا حملہ کرنے کے لئے گرجنا ، فلانا:کسی سے وعدہ کرنا، دھمکی دینا۔
عِشْتُ:عاش(ض)عِیْشًا:
زندگی گزارنا ، زندہ رہنا۔مُجِیْرٌ:صفت۔اجارَہ،:پناہ دینا، مددکرنا، من فلانٍ:نجات دلانا۔
فی القرآن المجید:
وَھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ۔(23/88)
وقال قَیْسُ بْنُ الْخَطِیْمِ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کا نام قیس بن خطیم ہے (متوفی 2ق ھ/620ء)اور یہ جاہلی شاعر ہے، اس نے زمانہ اسلام پایا اور سر ور ِ دو عالم شاہ ِ بنی آدم
 (فِدَاہُ رُوْحِیْ وَجَسَدِیْ) صلّی اللّہ تعالی علیہ وآلہ وسلّم
کی زیارت کی، لیکن نعمتِ اسلام سے محروم رہا اور کفر پر مر کر واصل ِ جہنم ہوا۔

اشعار کا پس ِ منظر: 

    شاعر کے باپ کو بنو عامر کے کسی شخص نے قتل کیا تھا اور اس کے دادا کو عدی بن عمرو نے قتل کیاتھا ،ان دنوں شاعر چھوٹا بچہ تھا ، اس کی ماں کو اندیشہ ہوا کہ اگراس کو قاتلین کا پتہ چل گیا تو یہ قصاص لینے کے لئے چلا جائے گااور ہلاک ہوجائے گا؛ لہذا اس کی ماں نے مٹی کی دوقبریں بنا کر کہا کہ یہ تیرے باپ اور دادا کی قبریں ہیں۔اسے بنو ظفر کے لڑکوں نے کہا کہ اگر تواپنے باپ کا قصاص لے لے تو اچھا ہوگا،اسے غصہ آیا اور اپنی ماں سے کہا اگر تو مجھے ان کے قاتل نہیں بتائے گی تو میں تجھے یا خود کو قتل کردوں گا تو اس کی ماں نے بتادیا ، اس نے خداش بن زہیرکا پتا لگایا خطیم کا اس پر احسان تھا ،خداش کی بیوی کھانا لے کر آئی اس نے تھوڑا سا کھایا اور خداش نے اس کے پاؤں دیکھ کر کہا اسکے پاؤں خطیم کے پاؤں سے ملتے ہیں، پھر شاعر نے اسے اپنا نسب بتایا اور پورا واقعہ سنا کر آنے کا مقصد بتایا تو خداش نے کہا:تیرے باپ کا قاتل میرے چچا کا بیٹا ہے،آج شام میں اس کے ساتھ بیٹھوں گا، جب میں اس کی ران پر ہاتھ لگاؤں تو تُواسے قتل کردینااور لوگوں سے میں آپ کا دفاع کروں گا پھر اس نے ایسا ہی کیا ،جب لوگ اسے قتل کرنے لگے توخداش بچاتے ہوئے کہنے لگا اس نے اپنے باپ کے قاتل کو قتل کیا ہے۔ 

    پھر خداش اس کے ساتھ چلا، "بحرین "کے قریب اس کے دادا کے قاتل کی بستی کے قریب ریگستان میں ریت کے گول دائرہ میں خداش روپوش ہوگیا اور شاعر اپنے دادا کے قاتل کے پاس آیا اور کہنے لگا:میں یہاں آرہا تھا تو تمہاری قوم کے ایک ڈاکو نے میرا سامان لوٹ لیا، اب میں آپ کے پاس فریاد لے کر آیا ہوں ۔ یہ سن کراس نے اپنی قوم کے کچھ لوگ اس کے ساتھ کردیے تو شاعر ہنس پڑا ،تو اس نے متعجب ہوکر پوچھا :ہنسنے کی کیا وجہ ہے ؟ شاعر نے جواب دیا :اگر ہماری قوم کا سردار ہو تا اوراس سے مدد طلب کی جاتی تووہ آپ کی طرح نہ کرتا، بلکہ اکیلا ہی چل پڑتا، تواس نے بھی
Flag Counter