Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
154 - 324
گھوڑاجنگ میں جانا ناپسند کرتا ہے۔

حل لغات:

    اعطف:عطف(ض)عَطْفًا:مائل ہونا،جھکنا،مڑنا۔ ھریر: مص:ھرالشیءَ(ن،ض)ھریرًا:کسی شیء کوناپسند کرنا ،کراہت کرنا۔
3۔۔۔۔۔۔

         کُلُّ ماذالِکَ مِنِّیْ خُلُقٌ                      وبِکلٍّ اَنَا فِی الرَّوْعِ جَدِیْر
ترجمہ:

    یہ سب میری عادتیں ہیں اورجنگ میں ہرایک میرے لئے مناسب ہے۔

مطلب:

    شاعر یہ بتانا چاہتاہے کہ میں بہادر وجری ہوں تو اس کے ساتھ دانا بھی ہوں جس وقت جرأت وبہادری مفید ہوتی ہے اس وقت بہادری کے جواہر دکھاتاہوں اور جب مقابلہ مفید نہیں ہوتا تو بے مقصد کا م میں نہیں لگتا بلکہ وہاں سے کھسک جاتاہوں ،یہ بزدلی نہیں بلکہ عقلمندی ہے ۔ 

حل لغات:

     خُلُقٌ:والْخُلْقُ:طبعی خصلت، طبیعت، مروت، عادت۔ ج:اَخْلاق ۔
فی القرآن المجید:
وَإِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیْمٍ۔(68/4)
اَلرَّوْعُ:جنگ ،لڑائی، ڈر، خوف ، حسن وجمال،شان وشوکت،آب وتاب۔ جَدِیْرٌ:صفت۔
جَدُرَبِکذا(ک)جَدَارَۃً:
لائق واہل ہونا۔
4۔۔۔۔۔۔

                  وَابْنُ صُبْحٍ سادِرًا یُوْعِدُنِیْ                 مالَہٗ فِی النَّاسِ ماعِشْتُ مُجِیْر،
ترجمہ:

    اور ابن صبح غافل ہوکر مجھے دھمکی دے رہاہے جب تک میں زندہ ہوں لوگوں میں اسے کوئی پناہ دینے والانہیں۔

مطلب:

ٍ    ابن صبح سے کمزو ر اور ضعیف شخص مرادہے کیونکہ عرب کا خیال تھا کہ جو خاتون صبح کو حاملہ ہو تی ہے تو اس کا بچہ کمزور وضعیف ہوتاہے، اس سے مراد ولدالزنا بھی ہوسکتاہے یعنی صبح کے وقت جنگجو غارت گری کرتے تو بعد میں خواتین سے زنا کرتے تھے ، اس صورت میں یہ طنز و طعنہ ہوگا ، شاعر یہ کہتاہے کہ وہ اپنی اوقات کو بھول گیا اور مجھے دھمکیاں دے رہا ہے۔ 

حل لغات:

    سَادِرٌ:فا، سَدر(ف)سَدَرًا:گرمی کی شدت سے نگاہ کا چندھیا جانا، بے پرواہ ہونا،حیران وپریشان ہونا،خیرہ
Flag Counter