Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
152 - 324
کرنا۔
وَالَّذِیْنَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَنُبَوِّئَنَّہُم مِّنَ الْجَنَّۃِ غُرَفاً۔(29/58)
لَحْدٌ:قبر کی ایک جانب میت کو رکھنے کا گھڑا، اسے بغلی کہتے ہیں،بغلی قبر، قبر۔ج:اَلْحَادٌ ولُحُوْدٌ۔
14۔۔۔۔۔۔

              مااِنْ جَزِعْتُ ولا ھَلِعْت                           ولایَرُدُّ بُکَاِئیْ زَنْدَا
ترجمہ:

    میں نے بے صبری کی نہ ہی آہ وبکااور میرا رونا کچھ بھی واپس نہیں کرسکتا۔

حل لغات:
    جَزِعْتُ:جَزِعَ منہ(س)جَزَعًا:
کسی چیز پر صبر نہ کرکے غم کا اظہا ر کرنا ۔
فی القرآن المجید:
إِذَا مَسَّہُ الشَّرُّ جَزُوعاً۔(70/20)
علیھم:ڈرنا،خوف کرنا یا شفقت و مہربانی کرنا۔
ھَلِعْتُ:ھَلِعَ(ف)ھَلَعًا:
دل دہلنا،حواس باختہ ہوجا نا ،گھبراجانا،بے قرار ہوجانا ، بے صبری دکھانا۔
إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ ھَلُوعا(70/19)
زَنْدٌ:ہاتھ کا گٹھا ،چقماق کی اوپر کی لکڑی ۔شارحین نے یہاں اس کا معنی ''الشیء القلیل''سے کیا ہے۔
15۔۔۔۔۔۔

          اَلْبَسْتُہ، اَثْوَابَہ،                                    وخُلِقْتُ یَوْمَ خُلِقْتُ جَلْدَا
ترجمہ:

    میں نے انہیں ان کے کفن پہنائے اور میں پیدائشی طور پر طاقتور بہادر ہوں۔
16۔۔۔۔۔۔

        اُغْنِیْ غَنَاءَ الذَّاھِبِیْنَ                            اُعَدُّ لِلْاَعْدَاءِ عَدَّا
ترجمہ:

    میں جانے والوں سے بے نیاز کردیتاہوں، دشمنوں کے لئے (اکیلا ہی)کافی شمار کیا جاتاہوں۔

حل لغات:

    اَغْنَی:الشیئُ:کوئی چیز کافی ہونا، الرجلُ عن فلانٍ:کسی شخص کا کسی کے لئے کافی ہونا(حفاظت وکفالت میں کسی دوسرے سے بے نیاز کرنا)
17۔۔۔۔۔۔

         ذَھَبَ الَّذِیْنَ اُحِبُّھُمْ                       	وَبَقِیْتُ مِثْلَ السَّیْفِ فَرْدَا
ترجمہ:

    جن سے میں محبت کرتاتھا وہ لوگ چلے گئے اور میں تلوار کی طرح اکیلا رہ گیا ہوں۔
Flag Counter