Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
147 - 324
10۔۔۔۔۔۔

           فَوَلَّوْا واَطْرافُ الرِّماحِ عَلَیْھِمْ                        قَوَادِرُ مَرْبُوْعاتُہا وطِوالُھا
ترجمہ:

    تووہ پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے اس حال میں کہ درمیانے اور بڑے نیزوں کے کنارے ان پر قادر تھے۔

حل لغات:

     مربوعات۔ المَرْبُوع:متوسط،درمیانے قد والا۔طِوَالٌ:مف:ا َلطَّوِیْل:لمبا۔
وقال عَمْرُو بْنُ مَعْدِیْکَرِبَ (الکامل)
شاعر کا تعارف :

    شاعر کا نا م: عمر و بن معدیکرب زبیدی ہے (21ھ/642ء)اور یہ ایسے بہادر تھے کہ تن ِ تنہا ایک ہزار کے برابر سمجھے جاتے تھے اورکثیر جنگوں میں شرکت کی،یہ اسلام لائے پھر رسول اللہ (فداہ روحی وجسدی)صل اللہ تعالی علیہ آلہٖ وصحبہٖ وسلم کے وصال مبارک کے بعد اسلام سے منحرف ہوگئے لیکن پھر دولتِ اسلام سے سرفراز ہوکر دونوں جہاں کی نعتیں حاصل کیں اور جنگِ قادسیہ میں شرکت کی سعادت حاصل اور اَرجح قول کے مطابق سیدناعثمان غنی ذو النورین رضی اللہ تعالی عنہ کے زمانہ میں فوت ہوئے۔
1۔۔۔۔۔۔

          لَیْسَ الْجَمَالُ بِمِیْزَر                              فَاعْلَمْ واِنْ رُدِّیْتَ بُرْدَا
ترجمہ:

    تو جان لے کہ حسن وجمال لباس میں نہیں اگر چہ تجھے منقش چادر پہنادی جائے۔

حل لغات:

     اَلجَمَالُ:مص:خوبصورتی۔مِیْزَرٌ:اَلاِزَار:تہبند،لنگی(مذکرومؤنث دونوں طرح مستعمل ہے)، حاشیہ۔ج:
اُزُرٌ و آزِرَۃٌ۔بُرْدٌ:
دھاری دار کپڑا۔ج:
بُرُوْدٌ واَبْرَادٌو اَبْرُدٌ۔''فَاعْلَمْ''
یہ جملہ معترضہ ہے، اس سے کلام کو مضبوط کیاجاتاہے جیسے قرآن میں ہے:
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوۡمِ ﴿ۙ75﴾وَ اِنَّہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوۡنَ عَظِیۡمٌ ﴿ۙ76﴾ اِنَّہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیۡمٌ  ﴿ۙ77﴾۔ (75،76،77)
2۔۔۔۔۔۔

           اِنَّ الْجَمالَ مَعَادِنٌ                              ومَنَاقِبٌ اَوْرَثْنَ مَجْدَا
ترجمہ:

    بےشک حسن وجمال تواعلی حسب ونسب اور عاداتِ کریمہ ہیں جو عظمت وشرافت پیداکرتے ہیں
Flag Counter