Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
146 - 324
والا۔ج:حُفَوَاءُ۔بیروت کے نسخہ میں ''خَفِیٍّ''ہے۔
8۔۔۔۔۔۔

       ولماتَدَانَوْابِالرِّماحِ تَضَلَّعَتْ                  صُدُوْرُ الْقَنا مِنْھُمْ وعَلَّتْ نِھالُھا
ترجمہ:

    اور جب وہ(دشمن)نیزوں کے ساتھ قریب ہوئے تو نیزوں کی نوکوں نے پہلی بار سیر ہوکر ان کا خون پیا اور پہلی بار پینے والوں نے دوسری بار پیا۔

حل لغات:

     تَضَلَّعَتْ:خوب سیر یا سیراب ہونا۔
تضلَّعَ مِنَ العُلُومِ:
علوم سے وافر حصہ پانا۔عَلَّتْ: عَلَّ(ض)عَلّاً:دوسری دفعہ یا لگاتار پینا۔نِھالٌ:مف:اَلنَّاھِلْ:سیراب ، پیاسا۔
9۔۔۔۔۔۔

       ولما عَصَیْنَا بِالسُّیُوفِ تَقَطَّعَتْ                 وَسَائِلُ کانَتْ قَبْلُ سَلْمًا حِبالُھا
ترجمہ:

    اورجب ہم نے شمشیرزنی کی تووہ وسائل کٹ گئے جن کی رسیاں اس سے پہلے سلامتی کا سبب تھیں۔

مطلب:

    جب ہم نے شمشیرزنی کی جو ہمارے باہم تعلقات وہ ختم ہوگئے اورہم دشمن بن گئے۔

نوٹ:

     ''عَصَیْنَا بِالسُّیُوفِ''کامعنی ہے ''ضربنا بالسیف''(شرح مرزوقی اورنسخۀ بیروت )
حل لغات:
     عَصَیْنَا:عَصَاہُ(ن)عَصْوًا:
کسی کو لاٹھی یا ڈنڈا مارنا،لاٹھی سے پیٹنا۔
فی القرآن المجید:
قَالَ ہِیَ عَصَایَ أَتَوَکَّأُ عَلَیْہَا۔(20/18)
فلانًا:لاٹھی کے مقابلہ میں کسی پر غالب آنا۔ تَقَطَّعَتْ:(تفعل)تَقَطَّعَ:کٹ جانا۔
وَتَقَطَّعَتْ بِہِمُ الأَسْبَاب۔(2/166)
سَلْم ٌ:اسلامُ:
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّۃً ۔(2/208)
صلح۔امن خلاف الحرب ۔
وَإِن جَنَحُواْ لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ۔(8/61)
صلح جو،امن پسند۔ ج:اَسْلُمٌ وسِلَامٌ۔ حِبَال:مف:اَلْحَبْلُ:رسی، باندھنے کی چیز۔
وَاعْتَصِمُوۡا بِحَبْلِ اللہِ جَمِیۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا ۔(3/103)
Flag Counter