| دِيوانِ حماسه |
ترجمہ:
جب ہم وادیئ حائل کے درمیان ہموار زمین پر آئے جہاں طلح اور سیال کے درخت ملتے ہیں۔
مطلب:
مذکورہ بالا اشعارمیں شاعر بنو اسد بن خزیمہ کو دھمکی دے رہا ہے اور اپنے لشکر کی کثر ت بیا ن کرتے ہوئے ، اپنے خالص عربی النسل ہونے کا دعوی کررہاہے اور بنو اسد کو طعنہ دے رہاہے کہ تمہارے آباء عجمی تھے لہذا تم خالص عربی النسل نہیں ہو۔
حل لغات:
طَلْح:ببول کا درخت،کیکر کا درخت ، کیلا۔فی القرآن لمجید:
وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ۔(56/29)
شگوفہ۔سیال:کانٹے دار درخت جس کی چھال دباغت کے لئے استعمال ہوتی ہے، بہت برسنے والا بادل۔
6۔۔۔۔۔۔
دَعَوْا لِنِزَارٍو انْتَمَیْنَا لِطَیِّءٍ کَاْسْدِ الشَّرٰی اِقْدامُھا ونِزَالُھاترجمہ:
انہوں نے بنو نزار کوپکارا اور ہم نے اپنی نسبت بنو طی کی طرف کی جن کی پیش قدمی اورلڑائی شری جنگل کے شیروں کی طرح ہیں۔
حل لغات:
اِنْتَمٰی الی کذا:کسی چیز کی طرف منسوب ہونا۔ نِزَال:روبرو ، لڑائی ، میدان مقابلہ۔ الشری:پتی، پہاڑ، بہت شیروں والی جگہ۔کہتے ہیں :ھم اُسْدُالشَّرٰی:
وہ بہت بہادر اور جان باز ہیں، گوشہ،کنارہ۔ج:اَشْرَاءٌ۔
7۔۔۔۔۔۔
فَلَمَّا اِلْتَقَیْنَا بَیَّنَ السَّیْفُ بَیْنَنَا لِسَائِلَۃٍ عَنَّا حَفِیٍّ سَؤَالُھاترجمہ:
جب ہم نے جنگ کی تو تلوار نے ہماری پہچان کرادی اس عورت کو جو مبالغہ سے ہمارے بارے میں پوچھ رہی تھی ۔
حل لغات:
بَیَّنَ:(تفعیل)الشیئُ:ظاہر اور واضح ہونا۔حَفِیٌّ:مکمل علم رکھنے والا ۔فی القرآن المجید:
یَسْأَلُونَکَ کَأَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا۔(7/187)
لطیف و شفیق ۔
إِنَّہُ کَانَ بِیْ حَفِیّا۔(19/47)
سوال میں مبالغہ کرنے