Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
145 - 324
ترجمہ:

    جب ہم وادیئ حائل کے درمیان ہموار زمین پر آئے جہاں طلح اور سیال کے درخت ملتے ہیں۔

مطلب:

    مذکورہ بالا اشعارمیں شاعر بنو اسد بن خزیمہ کو دھمکی دے رہا ہے اور اپنے لشکر کی کثر ت بیا ن کرتے ہوئے ، اپنے خالص عربی النسل ہونے کا دعوی کررہاہے اور بنو اسد کو طعنہ دے رہاہے کہ تمہارے آباء عجمی تھے لہذا تم خالص عربی النسل نہیں ہو۔

حل لغات:

     طَلْح:ببول کا درخت،کیکر کا درخت ، کیلا۔
فی القرآن لمجید:
وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ۔(56/29)
شگوفہ۔سیال:کانٹے دار درخت جس کی چھال دباغت کے لئے استعمال ہوتی ہے، بہت برسنے والا بادل۔
6۔۔۔۔۔۔

          دَعَوْا لِنِزَارٍو انْتَمَیْنَا لِطَیِّءٍ                       کَاْسْدِ الشَّرٰی اِقْدامُھا ونِزَالُھا
ترجمہ:

    انہوں نے بنو نزار کوپکارا اور ہم نے اپنی نسبت بنو طی کی طرف کی جن کی پیش قدمی اورلڑائی شری جنگل کے شیروں کی طرح ہیں۔

حل لغات:

    اِنْتَمٰی الی کذا:کسی چیز کی طرف منسوب ہونا۔ نِزَال:روبرو ، لڑائی ، میدان مقابلہ۔ الشری:پتی، پہاڑ، بہت شیروں والی جگہ۔کہتے ہیں :
ھم اُسْدُالشَّرٰی:
وہ بہت بہادر اور جان باز ہیں، گوشہ،کنارہ۔ج:اَشْرَاءٌ۔
7۔۔۔۔۔۔

     فَلَمَّا اِلْتَقَیْنَا بَیَّنَ السَّیْفُ بَیْنَنَا                      لِسَائِلَۃٍ عَنَّا حَفِیٍّ سَؤَالُھا
ترجمہ:

    جب ہم نے جنگ کی تو تلوار نے ہماری پہچان کرادی اس عورت کو جو مبالغہ سے ہمارے بارے میں پوچھ رہی تھی ۔     

حل لغات:

    بَیَّنَ:(تفعیل)الشیئُ:ظاہر اور واضح ہونا۔حَفِیٌّ:مکمل علم رکھنے والا ۔
فی القرآن المجید:
یَسْأَلُونَکَ کَأَنَّکَ حَفِیٌّ عَنْہَا۔(7/187)
لطیف و شفیق ۔
إِنَّہُ کَانَ بِیْ حَفِیّا۔(19/47)
سوال میں مبالغہ کرنے
Flag Counter