Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
143 - 324
کریں تو میرا کوئی قصور نہیں ہوگا۔''بقیتکم''کے دو مطلب ہیں:(الف)اس سے مراد قوم کے سرداراور معزز لو گ ہوں (ب)وہ لوگ جنہوں نے جرم نہیں کیا اورنہ ہی قوم کے مجرم لوگوں کی مددکی '' بَقِیَّتُکُم''مرزوقی کے نسخہ میں''یقینکم''ہے۔
حل لغات:
     تُذْنِبُوْا:(افعال)اَذْنَبَ:
گناہ کرنا ،جرم کرنا،غلطی کرنا،گناہ گارہونا۔ بقیۃ:باقی ماندہ ج:بَقَایَا۔کہاجاتا ہے:
فلانُ بَقِیَّۃُ قَوْمہٖ۔
فلاں اپنی قوم کے بہتر لوگوں میں سے ہے ۔
فوت:فاتَ الامرُ(ن)فَوْتًا:
کسی کام کاوقت گزرجانا اور اسے نہ کیا جانا۔
وقال اُنَیْفُ بْنُ زَبَّانَ النَّبْھَانِیْ (الطویل)
شاعر کانام:

     انیف بن زبان نبہا نی ہے اوریہ جاہلی شاعرہے، بنواسد بن خزیمہ کو مخاطب ہوکر یہ اشعارکہتاہے۔
1۔۔۔۔۔۔

      جَمَعْنَا لَکُمْ مِنْ حَیَّیْ عَوْفٍ وَمَالِکٍ               کَتَائِبَ یُرْدِی الْمُقْرِفِیْنَ نَکَالُہَا
ترجمہ:

     ہم نے تمہارے لئے قبیلہ عوف ومالک سے ایسے لشکر تیار کئے ہیں جن کی سزامخلوط نسل والوں کو ہلاک کردے گی۔

حل لغات:

    حَیّ:ہماری ہاں جونسخے ہیں ان یہ مفردجبکہ بیروت کے نسخہ میں تثنیہ ہے اور شعر میں اسی کے مطابق لکھاگیاہی ۔کَتَائِبُ:مف:اَلْکَتِیْبَۃُ:فوج، فوج کا بڑا دستہ (بٹالین) جس کے تحت کمپنیاں ہوتی ہیں۔یُرْدِیْ:(افعال)اَرْدَی فلانًا:گرانا، ہلاک کرنا۔ اَلْمُقْرِفِیْنَ:اَلْمُقْرِفُ:ناپسندیدہ (چہرہ)کمینہ،بدذات، وہ آدمی یا گھوڑا جس کے ماں باپ میں سے ایک عربی اور دوسرا عجمی ہو۔ اَلنّکَال:سزا،عبرت ناک سزا، آفت ومصیبت۔
فی القرآن المجید:
فَجَعَلْنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَمَا خَلْفَہَا ۔(2/66)
2۔۔۔۔۔۔

        لَھُمْ عَجْزٌ بِالرَّمْلِ فَالْحَزْنِ فَاللِّوٰی                  وقدجَاوَزَتْ حَیَّیْ جَدِیْسٍ رِعَالُھَا
ترجمہ:

    ان کا پچھلا حصہ مقام رمل،حزن اورمقام لوی میں ہے اور ان کا اگلا حصہ جدیس کے دونوں قبیلوں سے آگے گزر چکاہے۔
Flag Counter