فلاں اپنی قوم کے بہتر لوگوں میں سے ہے ۔
فوت:فاتَ الامرُ(ن)فَوْتًا:
کسی کام کاوقت گزرجانا اور اسے نہ کیا جانا۔
وقال اُنَیْفُ بْنُ زَبَّانَ النَّبْھَانِیْ (الطویل)
شاعر کانام:
انیف بن زبان نبہا نی ہے اوریہ جاہلی شاعرہے، بنواسد بن خزیمہ کو مخاطب ہوکر یہ اشعارکہتاہے۔
1۔۔۔۔۔۔
جَمَعْنَا لَکُمْ مِنْ حَیَّیْ عَوْفٍ وَمَالِکٍ کَتَائِبَ یُرْدِی الْمُقْرِفِیْنَ نَکَالُہَا
ترجمہ:
ہم نے تمہارے لئے قبیلہ عوف ومالک سے ایسے لشکر تیار کئے ہیں جن کی سزامخلوط نسل والوں کو ہلاک کردے گی۔
حل لغات:
حَیّ:ہماری ہاں جونسخے ہیں ان یہ مفردجبکہ بیروت کے نسخہ میں تثنیہ ہے اور شعر میں اسی کے مطابق لکھاگیاہی ۔کَتَائِبُ:مف:اَلْکَتِیْبَۃُ:فوج، فوج کا بڑا دستہ (بٹالین) جس کے تحت کمپنیاں ہوتی ہیں۔یُرْدِیْ:(افعال)اَرْدَی فلانًا:گرانا، ہلاک کرنا۔ اَلْمُقْرِفِیْنَ:اَلْمُقْرِفُ:ناپسندیدہ (چہرہ)کمینہ،بدذات، وہ آدمی یا گھوڑا جس کے ماں باپ میں سے ایک عربی اور دوسرا عجمی ہو۔ اَلنّکَال:سزا،عبرت ناک سزا، آفت ومصیبت۔
فَجَعَلْنٰہَا نَکَالًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہَا وَمَا خَلْفَہَا ۔(2/66)
2۔۔۔۔۔۔
لَھُمْ عَجْزٌ بِالرَّمْلِ فَالْحَزْنِ فَاللِّوٰی وقدجَاوَزَتْ حَیَّیْ جَدِیْسٍ رِعَالُھَا
ترجمہ:
ان کا پچھلا حصہ مقام رمل،حزن اورمقام لوی میں ہے اور ان کا اگلا حصہ جدیس کے دونوں قبیلوں سے آگے گزر چکاہے۔