وَجِئْنَا بِبِضَاعَۃٍ مُّزْجَاۃٍ فَأَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ ۔ (12/88)
مَطِیَّۃٌ:(مذکر ومؤنث)سواری کا جانور۔ج:
مَطَایَا ومَطِیٌّ۔اَلصَّوْتُ:
إِنَّ أَنکَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ۔(31/19)
نغمہ،گیت۔غَنَّی صَوْتًا:اس نے ایک گیت گایا، یہ مذکر ہے لیکن بعض نے اسے مؤنث بھی کہا ہے، اچھی شہرت، ووٹ(کسی کومنتخب کرنے کی رائے جوزبانی یا پرچہ پر لکھ کر دی جائے)ج:اَصْوَاتٌ۔
2۔۔۔۔۔۔
وقُلْ لَھُمْ بَادِرُوْا بِالْعُذْرِ وَالْتَمِسُوْا قَوْلًا یُّبَرِّئُکُمْ اِنِّیْ اَنَاالْمَوْت،
ترجمہ:
اور ان سے کہہ دو کہ جلد عذر پیش کرو اور ایسی بات تلاش کرو جو تمہیں بری کردے بے شک میں موت ہوں۔
حل لغات:
اَلْعُذْرُ:دلیل اعتذار،وہ دلیل جس کے ذریعے کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی مجبوری ظاہر کی جائے، بہانہ،حیلہ، حجت، غلبہ، بکارت۔
اِلْتَمِسُوْا:التمس الشیئَ:
قِیۡلَ ارْجِعُوۡا وَرَآءَکُمْ فَالْتَمِسُوۡا نُوۡرًا ۔(57/13)
3۔۔۔۔۔۔
اِنْ تُذْنِبُوْا ثُمَّ تَاْئتِیْنِیْ بَقِیَّتُکُمْ فَمَاعَلَیَّ بِذَنْبٍ عِنْدَکُمْ فَوْت،
ترجمہ:
اگرتم غلطی کرو پھر تمہاری اولاد میرے پاس آئے تو مجھ پر کوئی گناہ نہیں کوتاہی تمہاری طرف سے ہے۔
مطلب:
تم جرم کرو تو مجھے انتقام لینے کا اختیار ہے ،اگر تم صلح صفائی چاہتے ہو تو انتقام لینے سے پہلے معقول عذر لے کر آجاؤ ورنہ بعد میں اگر تمہاری قوم کے سرداریاوہ لوگ جنہوں نے جرم نہیں کیا اورنہ ہی قوم کے مجرم لوگوں کی مددکی آکر معذرت