Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
140 - 324
نکالنا، آواز گونجنا، زور سے رونا، غمگین آواز سے رونا۔
2۔۔۔۔۔۔

       عَشِیَّۃَ اَرْمِیْ جَمْعَھُمْ بِلَبَانِہٖ                  وَنَفْسِیْ وقد وَطَّنْتُہا فَاطْمَاَئنَّتٖ
ترجمہ:

    جس شام میں دور کررہاتھا ان کی جماعت کواپنی جان اور اپنے گھوڑے کے سینے سے ،میں نے اپنے نفس کو آمادہ کیا تو وہ مطمئن ہوگیا۔

حل لغات:

    عَشِیَّۃٌ:زوال آفتاب سے غروب تک کا وقت ،سہ پہر،شام، نماز مغر ب کے بعد سے پوری تاریکی کا وقت ،وقت عشاء۔
فی القرآن المجید:
لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا عَشِیَّۃً أَوْ ضُحَاھَا۔(79/46)
ج:عَشَایَا۔جَمْعٌ: مجمع،ہجوم، جماعت، لشکر۔
وَنُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَجَمَعْنَاھُمْ جَمْعاً۔ (18/99)
وہ کھجور کا درخت جو ایسی گٹھلی سے اگے جس کی قسم معلوم نہ ہو، مختلف قسم کی ملی جلی کھجوریں، لاکھ جسے پگھلاکر مہر لگائی جاتی ہے، جمع، تقسیم کی ضد۔ج:
جُمُوع۔ وطنت:وطَّنَ بِا لبَلَدِ:
کسی ملک یا شہر کو وطن بنانا،جائے اقامت بنانا۔
نفسَہ، علی الامر ولہ:
کسی کام کے لئے خود کوآمادہ کرنا۔اِطْمَاَئنَّتْ:مطمئن ہونا، بے خوف ہونا۔
3۔۔۔۔۔۔

        وَلَاحِقَۃِ الاٰطَالِ اَسْنَدْتُّ صَفَّہا                اِلٰی صَفٍّ اُخْرٰی مِنْ عِدٰی فَاقْشَعَرَّ تٖ
ترجمہ:

    اور کتنے ہی باریک کمر والے گھوڑے کہ میں نے ان کی ایک صف کو دشمنوں کی دوسری صف سے ملادیا تو رَونگٹے کھڑے ہوگئے ۔

فائدہ:

     ''عِدٰی''نکرہ لاکریہ تنبیہ کی کہ ان کے دشمن اورمخالف بہت زیادہ ہیں اورکثرتِ ِاعداء،کثرتِ فضائل،غلبہ، عزت ، شہرت اورسرداری کی دلیل ہے کیونکہ ان خصائل کی وجہ سے حاسدین پیدا ہوتے ہیں۔
(شرح مرزوقی ج1 ص122بیروت)
حل لغات:
    لَاحِقَۃٌ:لَحِقَ الفَرْسُ وبَطْنُہ،(ف)لُحُوقًا:
دبلا اور چھریرا ہونا۔ اَلْاٰطَالُ:مف:الاِطِلُ:کوکھ۔
اسندت:اَسْنَدَاِلیہ:
سہارا لینا،بھروسہ کرنا۔
صَفٌّ:صفُ القومُ(ک)صفّاً:
لائن میں لگنا،صف بندی کرنا۔ اِقْشَعَرَّ
Flag Counter