لَمْ یَلْبَثُوا إِلَّا عَشِیَّۃً أَوْ ضُحَاھَا۔(79/46)
ج:عَشَایَا۔جَمْعٌ: مجمع،ہجوم، جماعت، لشکر۔
وَنُفِخَ فِیْ الصُّورِ فَجَمَعْنَاھُمْ جَمْعاً۔ (18/99)
وہ کھجور کا درخت جو ایسی گٹھلی سے اگے جس کی قسم معلوم نہ ہو، مختلف قسم کی ملی جلی کھجوریں، لاکھ جسے پگھلاکر مہر لگائی جاتی ہے، جمع، تقسیم کی ضد۔ج:
جُمُوع۔ وطنت:وطَّنَ بِا لبَلَدِ:
کسی ملک یا شہر کو وطن بنانا،جائے اقامت بنانا۔
کسی کام کے لئے خود کوآمادہ کرنا۔اِطْمَاَئنَّتْ:مطمئن ہونا، بے خوف ہونا۔
3۔۔۔۔۔۔
وَلَاحِقَۃِ الاٰطَالِ اَسْنَدْتُّ صَفَّہا اِلٰی صَفٍّ اُخْرٰی مِنْ عِدٰی فَاقْشَعَرَّ تٖ
ترجمہ:
اور کتنے ہی باریک کمر والے گھوڑے کہ میں نے ان کی ایک صف کو دشمنوں کی دوسری صف سے ملادیا تو رَونگٹے کھڑے ہوگئے ۔
فائدہ:
''عِدٰی''نکرہ لاکریہ تنبیہ کی کہ ان کے دشمن اورمخالف بہت زیادہ ہیں اورکثرتِ ِاعداء،کثرتِ فضائل،غلبہ، عزت ، شہرت اورسرداری کی دلیل ہے کیونکہ ان خصائل کی وجہ سے حاسدین پیدا ہوتے ہیں۔
(شرح مرزوقی ج1 ص122بیروت)
لَاحِقَۃٌ:لَحِقَ الفَرْسُ وبَطْنُہ،(ف)لُحُوقًا:
دبلا اور چھریرا ہونا۔ اَلْاٰطَالُ:مف:الاِطِلُ:کوکھ۔
صَفٌّ:صفُ القومُ(ک)صفّاً:
لائن میں لگنا،صف بندی کرنا۔ اِقْشَعَرَّ