فَفِرُّوۡۤا اِلَی اللہِ ؕ اِنِّیۡ لَکُمۡ مِّنْہُ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ۔(51/50)
7۔۔۔۔۔۔
فَلَوْاَنَّ قَوْمِیْ اَنْطَقَتْنِیْ رِمَاحُھُمْ نَطَقْتُ ولٰکِنَّ الرِّمَاحَ اَئجَرَّتٖ
ترجمہ:
اگر میری قوم کے نیزے مجھے بولنے دیتے تومیں بولتا لیکن نیزوں نے میری زبان کھینچ لی۔
مطلب:
اگر میری قوم میدان جنگ سے فرار نہ ہوتی تو ہم فتح حاصل کرلیتے اور میں فخریہ اشعار کہتالیکن وہ بھاگ گئی تو اب میں کس منہ سے فخریہ اشعار کہوں صرف میدان جنگ کا حال بیان کرنے پراکتفاء کرتاہوں۔
حل لغات:
اَنْطَقَتْ:(افعال)اَنْطَقَہ،:گویا کرنا،بلوانا،قوت گویائی دینا،زبان دینا۔
قَالُوا أَنطَقَنَا اللَّہُ الَّذِیْ أَنطَقَ کُلَّ شَیْئٍ۔(41/21)
اَجَرَّتْ:اَجَرَّ لِسانَہ،:
وقال سَیَّارُ بْنُ قَصِیْرٍ اَلطَّائِیُّ (الطویل)
1۔۔۔۔۔۔
فَلَوْ شَھِدَتْ اُمُّ الْقُدَیْدِ طِعَانَنَا بِمَرْعَشَ خَیْلَ الْاَرْمَنِیِّ اَرَنَّتٖ
ترجمہ:
اگرام قدید حاضرہوتی مقام مرعش میں ارمنی شہسواروں کے ساتھ ہماری نیزہ زنی کے وقت تو چیخ پڑتی۔
حل لغات:
اُمُّ الْقُدَیْدِ:شاعر کی بیوی کی کنیت ہے۔مرعش:شام کے ایک شہر کا نام ہے۔ارمنی :ارمن کا رہنے والا،یہ روم کا علاقہ ہے۔
اَرَنَّت:(افعال)اَرَنَّتِ الْمَرْءَ ۃُ فی نوحِھا:
عورت کا زور سے آوازنکالنا۔رَنَّ(ض) رَنِینًا:آواز