اسبطرَّت:(اقشعرار)پھیل جانا، لمباہونا۔بطر(ن،ض)بَطْرًا:چیرنا ،پھاڑنا۔بَطَرا(س)بہک جانا،اترانا۔
کَالَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ ۔(8/47)
2۔۔۔۔۔۔
فَجَاشَتْ اِلَیَّ النَّفْسُ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَرُدَّتْ عَلٰی مَکْرُوْھِھَافَاسْتَقَرَّتٖ
ترجمہ:
میرانفس پہلی بارگھبرایا اسے نا پسند چیز پر لوٹادیاگیا تو ٹھہر گیا۔
مطلب:
جب میری قوم والے فرار ہوگئے تو میں گھبراگیالیکن میں نے بھا گنا معیوب سمجھا اور خود کو تسلی دی تو میری گھبراہٹ دور ہوگئی۔
حل لغات:
جَاشَتْ:(ض)جَیشًا نفسُہ،:
قیہ ہونا، خوف یاغم کی وجہ سے ۔
فی الحدیث:وکَانَّ نفسِی جاشَتْ۔ اِسْتَقَرَّتْ:اِسْتَقَرَّبالمکانِ:
قرار پانا،قیام پذیر ہونا ، کسی جگہ سکون سے رہنا۔
کُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ ۔(54/3)
3۔۔۔۔۔۔
عَلامَ تَقُوْلُ الرُّمْحُ یُثْقِلُ عَاتِقِیْ اِذَااَنَا لَمْ اَطْعَنْ اِذَا الْخَیْلُ کَرَّتٖ
ترجمہ:
اے نفس تو کیسے کہے گا کہ نیزوں نے میرا کندھا بھاری کردیا جب میں نیزہ زنی نہ کروں جس وقت شہسوار حملہ کررہے ہوں۔
مطلب:
نیزوں نے میرا کندھا بھاری کردیا،یہ کنایہ ہے تجربہ کا ر جنگجواوربہادر ہونے سے، اس شعر میں شاعر خود کو ڈانٹ رہاہے اگر تو بھاگ گیا توپھر تُوبہادر کہلانے کا مستحق نہیں ہوگا۔
حل لغات:
یُثْقِلُ:(افعال)اَثقَلَ النومُ فلانا:
نیند کا آنکھوں کو بو جھل کردینا، نیند کا غالب آنا۔اثقلتِ الحامِلُ:حمل