جوشخص دروازہ کھٹکھٹائے اور اصرار کرے وہ داخل ہوہی جاتاہے۔ الرجلَ:مارنا، الشیئَ:پسند کرنا، فلانابالرمحِ:نیزہ مارنا، اَلنَّبْعُ:پہاڑکی چوٹی پر اگنے والا درخت جس کی لکڑی سے تیر اور کمانے بناتے ہیں۔عِیْدَانٌ:واَعْوَادٌ۔مف:العُوْدُ:ہرلکڑی(موٹی ہو یا پتلی، خشک ہو یا تر)ایک خوشبودار لکڑی جس سے دھونی دی جاتی ہے، سارنگی(ایک باجا)تکسرا:ریزہ ریزہ ہوجانا،ٹکڑے ہوجانا، شکن پڑجانا۔
3۔۔۔۔۔۔
ولَمَّالَقِیْنَا عُصْبَۃً تَغْلِبِیَّۃً یَقُوْدُوْنَ جُرْدًا ِللْمَنِیَّۃِ ضُمَّرَا
ترجمہ:
اورجب ہم نے بنو تغلبیہ کی ایسی جماعت سے جنگ کی جو کم بالوں والے پتلی کمر والے گھوڑوں کو موت کی طرف ہانک کر لے جارہی تھی ۔
حل لغات:
یَقُوْدُوْنَ:قاد الدابۃَ(ن)قَوْدًا:
جانور کی نکیل یا لگام یا رسی پکڑکر آگے آگے چلنا۔ضُمَّرٌ: مف:الضَامِرُ:دبلاپتلا،چھریرے بدن کا۔
یَاۡتُوۡکَ رِجَالًا وَّعَلٰی کُلِّ ضَامِرٍ ۔(22/27)
4۔۔۔۔۔۔
سَقَیْنَا ھُمْ کَاْئسًا سَقَوْنَا بِمِثْلِھَا ولٰکِنَّھُمْ کَانُوْا عَلَی الْمَوْتِ اَصْبَرَا
ترجمہ:
ہم نے انہیں ایسا ہی جام پلایا جیسا انہوں نے ہمیں پلایاتھا لیکن وہ موت پر زیادہ صابر تھے ۔
مطلب:
جیسا انہوں نے کیا ہم نے انہیں ویسا ہی بدلہ دیا البتہ ان کا قتل زیا دہ ہوا،یہاں سبب (صبرکرکے میدان میں ٹھہرنا)بول کر مسبب(قتل کی زیادتی)مراد لیا ہے جیسے قرآن میں ہے۔
فَمَاۤ اَصْبَرَہُمْ عَلَی النَّارِ ۔(2/175)
بعض نے یہ مطلب بیان کیاہے:ہم میدان جنگ سے بھاگ گئے اور وہ ثابت قدم رہے لھذا وہ ہم سے زیادہ صابر ہوئے ، موت سے مراد جنگ ہے کیونکہ جنگ بھی موت کا سبب ہے ۔