Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
134 - 324
وقال زُفَرُبْنُ الْحَارِثِ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کا نا م :زفر بن حارث کلابی ہے(متوفی 75ھ/695ء)اور یہ جلیل القد ر تابعی ہیں،جنگ ِ صفّین میں حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ تھے ۔ 

اشعار کا پس منظر:

    ملک شام میں مرج را ہط کے مقام پر بنو قلب اور بنو قیس کے درمیان لڑائی ہوئی ،بنو قلب ، تغلب بن وائل اور یمن کے تمام لوگ مروان بن حکم کے ساتھ تھے اس جنگ میں ضحاک بن قیس فہری جوکہ بنو قیس کے سردار تھے قتل ہوگئے اور یہ شاعرمیدان جنگ سے فرارہوگئے اس جنگ کو ان اشعار میں بیان کررہے ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

     وکُنَّا حَسِبْنَا کُلَّ بَیْضَاءَ شَحْمَۃً                       لَیَالِیَ لَاقَیْنَا جُذَ امَ وحِمْیَرَا
ترجمہ:

    ہم ہرسفید چیز کوچربی سمجھے ہوئے تھے جن راتوں ہم نے قبیلہ جذام اور حمیر سے جنگ کی۔ 

مطلب:

     ہم نے بہادروں کو کمزورسمجھ رکھاتھا لیکن معاملہ اس کے برعکس تھا کیونکہ ان کا اور ہمارا ایک ہی نسب تھا اور جس خصلت کی بنا پر ہم تمام لوگوں سے ممتاز تھے وہ خصلت ان میں بھی تھی۔ نظر آرہاتھا۔    

حل لغات:

    شَحْمَۃٌ:چربی کا ٹکڑا، یہاں کنایہ ہے کمزوری سے۔شَحْمَۃُ الْعَیْنِ:آنکھ کی پتلی۔شَحْمَۃُ الْاُذُنِ:کان کی لو۔''لَاقَیْنَا''مرزوقی کے نسخہ میں ''قارعنا''ہے۔
2۔۔۔۔۔۔

      فَلَمَّا قَرَعْنَا النَّبْعَ بِالْنَّبْعِ بَعْضَہ،                 بِبَعْضٍ اَبَتْ عِیْدَانُہ، اَنْ تَکَسَّرَا
ترجمہ:

    جب ہم نے کمانوں کو باہم کھٹکھٹایا تو ان کی لکڑیوں نے ٹوٹنے سے انکار کردیا۔

مطلب:

     نبع ان تمام درختوں میں سب سے اعلی درخت ہے جن کی لکڑیوں سے تیر اور کمانے بنائے جاتے ہیں،اور
Flag Counter