طُلِّقْتِ:(تفعیل)طَلَّقَ الْمَرْءَ ۃَ:
فَإِن طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہُ مِن بَعْدُ حَتَّیَ تَنکِحَ زَوْجاً غَیْرَہ۔ (2/230)
حلیل:حلیل الرجلِ:بیوی۔حلیل المرء ۃِ:خاوند۔
1۔۔۔۔۔۔
اَکُرُّ عَلَیْہِمْ دَعْلَجًا ولَبَانَہ، اِذَامَا اشْتَکٰی وَقْعَ الرِّمَاحِ تَحَمْحَمَا
ترجمہ:
میں ان پر دعلج گھوڑے اور اس کے سینے سے بار بار حملہ کر رہاتھا،جب وہ کثرت سے لگنے والے نیزوں کی شکایت کرتا تو ہنہناتا۔
حل لغات:
اَکُرُّ:کَرَّ(ن)فلانٌ کُرُوْرًا:
لَوْ أَنَّ لِیْ کَرَّۃً فَأَکُونَ مِنَ الْمُحْسِنِیْن۔(39/58)
الشیئَ: لوٹانا، علی العدو:دشمن پر حملہ کرنا، عنہ:پلٹنا۔ دَعْلَجٌ:گھوڑے کا نام ہے۔لَبَانٌ:دونوں شانوں کے درمیان سینے کاحصہ، جب گھوڑے کاذکر کیا توسینے کاذکر بھی ہوگیاپھر اسے علیٰحدہ ذکر کرنے کی وجہ اس کی رفعتِ شان کااظہارہے جس طرح قران عظیم میں ہے:
مَن کَانَ عَدُوّاً لِّلّہِ وَمَلآئِکَتِہِ وَرُسُلِہِ وَجِبْرِیْلَ وَمِیْکَالَ فَإِنَّ اللّہَ عَدُوٌّ لِّلْکَافِرِیْن۔(2/98)
اَللِّبَانُ:رضاعت۔ اِشْتَکیٰ:شکایت کرنا، شاکی ہونا۔
قَدْ سَمِعَ اللَّہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللہِ۔(58/1)
بیمار ہونا، مشکیزہ بنانا، الیہ:کسی سے فریاد کرنا، ایسے شخص سے اپنے درد غم کی شکایت کرناجو اسے دور کرسکے۔ تَحَمْحَم َ:الفرسُ:ہنہنا نا، الشیئُ:سیاہ ہونا۔