Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
132 - 324
وقال مَعْدَانُ بْنُ جَوَّاسٍ اَلْکِنْدِیْ (الطویل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کانام:معدان بن جوّاس کندی ہے(متوفی30ھ/650ء)یہ مخضرمی شاعر ہیں۔انہوں نے زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام دونوں پائے ہیں،پہلے عیسائی تھے پھر دولتِ اسلام سے مشرف ہو کر دونوں جہاں کی سعادتیں حاصل کیں۔

نوٹ:

     یہ اشعار اس میں باب میں اس لئے ذکر کئے کہ لفظًا ومعنیً''سختی اورشدت''پر مشتمل ہیں۔
1۔۔۔۔۔۔

       اِنْ کَا نَ مَا بُلِّغْتَ عَنِّیْ فَلَامَنِیْ              صَدِیْقِیْ وشَلَّتْ مِنْ یَدَیَّ الْاَنَامِل
ترجمہ:

    اگر وہ بات سچی ہو جو میرے بارے میں تجھے پہنچائی گئی تو میرا دوست مجھے ملامت کرے اور میرے ہاتھ بے کارہوں۔

حل لغات:
     بُلِّغْتَ:فلانًا الشیئ:
کسی کو خبر پہنچانا۔
فی القرآن المجید:
یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْکَ مِن رَّبِّکَ۔(5/67)
لَامَ:لامہ علی کذا(ن)لَومًا:
کسی کو ملامت کرنا۔
وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ۔(5/54)
آڑے ہاتھوں لینا۔
شلّتْ:شَلَّ الْعضوُ(ف)شللاً:
عضو کا شل ہو جانا،سوکھ کر بے حرکت ہو جانا، مفلوج ہو جانا۔ الَاَنامِل:مف:اَلاُ نْمُلَۃُ:انگلی کی گرہ، انگلی کا جوڑ، انگلی کا پور، انگلی کی ہڈیاں، ناخن سے ملا ہوا انگلی کا جوڑ۔ انگلی ۔
وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوۡا عَلَیۡکُمُ الۡاَنَامِلَ مِنَ الْغَیۡظِ ۔(3/119)
2۔۔۔۔۔۔

       وکَفَّنْتُ وَحْدِیْ مُنْذِرًا فِیْ رِدَائِہٖ            وصَادَفَ حُوْطًا مِنْ اَعَادِیَّ قَاتِل،
اور میں اکیلا اپنے بھائی منذر کو اس کی چادر میں کفن دوں اور میرے بیٹے حوط کو میرے دشمنوں میں سے کوئی قاتل اچانک ملے۔

حل لغات:
    کَفَّنْتُ:(تفعیل)کفّن المیۃَ:
کفن دینا۔رداء:چادر، کپڑوں کے اوپر پہنے جانیوالی چیز جیسے جبہ وغیرہ، نصفِ اعلی کو ڈھانپنے والا کپڑا، موتیوں کا ہار ۔ج:اَردِیَۃٌ۔ صَادَفَ:ہ،:سامنے آجانا، اتفاقًا یا اچانک ملنا۔
Flag Counter