Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
131 - 324
حل لغات:
    اَشُنُّ:(ن)شَنّاً الغارۃَ علیہم:
چاروں طرف لوٹ ڈالنا۔نھاب:مف:نَھْب (ف،ن،س) الغنیمۃ:مالِ غنیمت لوٹنا۔ کہا جاتا ہے۔ ھذا زمانُ النَھْبِ۔یہ لوٹ کا وقت ہے۔غنیمت۔ہر وہ چیز جو لوٹی جائے۔
3۔۔۔۔۔۔

       خَیْلًا کَاَمْثَالِ السَّعالِیْ شُزَّبًا            تَعْدُوْ بِبِیْضٍ فِی الْکَرِیْھَۃِ شُوْسٖ
 (وہ غارت گری)ایسے گھوڑوں کے ساتھ ہوگی جو جنوں کی طرح دبلے پتلے ہیں جنگ میں ترچھی نظر سے دیکھنے والے متکبر سرداروں کو تیزی سے لے جاتے ہیں۔ 

مطلب:

     اس شعر میں شاعر نے گھوڑوں کو دبلے پن اور سبک رفتاری میں جنوں سے تشبیہ دی ہے۔

حل لغات:
     اَلسَّعالِیْ:وسِعْلِیَات۔مف:اَلسِّعْلاءُ والسِّعْلاۃُ وسِعْلیٰ:
بھوتنی یا بھوت۔ شُزَّبٌ: مف:اَلشَّازِبُ:دبلا،سوکھا، کھردرا ۔ شزب الحیوانُ (ن)شُزَّبَا:دبلا ہونا، سوکھا ہوا ہونا۔ تعدو:(ن) عَدْواً:دوڑنا۔
4۔۔۔۔۔۔

     حَمِیَ الْحَدِیْدُ عَلَیْھِمْ فَکَاَنَّہ،                وَمَضَانُ بَرْقٍ اَوْ شُعَاعُ شُمُوْسٖ
ترجمہ:

    لوہا ان پر گرم ہوا تو ایسالگتاہے کہ وہ بجلی کی چمک ہے یا سورج کی کرن۔

مطلب:

     میدان ِ جنگ میں زیادہ دیر تک ثابت قدم رہنے کی وجہ سے لوہے کی زرہیں اورخودگرمی کی شدت کی وجہ سے گرم ہوکرچمکنے لگے توشاعر نے ان کی چمک کو بجلی کی چمک یا سورج کی شعاع سے تشبیہ دی ہے۔
حل لغات:
    حَمِیَ:(س)حمیاً النارُ:
آگ کا بہت تیز گرم ہو جانا۔ علیہ:کسی پر سخت ناراض ہونا۔ الحدید: لوہا،لوہے کی سلاخ۔
وَأَنزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَأْسٌ شَدِیْدٌ وَ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ۔(57/25)
ج:حدائد۔تیز ۔ ومضان:مص ومض(ض)۔برْقٌ:بجلی کا ہلکے سے چمکنا۔برق:مص(ن)بَرْقاًوبَرِیْقاً:بجلی کا چمکنا، آسمان یا بادل میں بجلی چمکنا، چمکنا، جھلملانا ۔
یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ أَبْصَارَھُمْ(2/20)
شُعَاعٌ:سورج کی کرن ۔ج:
اَشِعَّۃٌ وشَعُعٌ وشِعَاعٌ۔شُمُوْسٌ:مص۔شمس الیومُ ونحوُہ(ن)شُمُوساً:
دن کا دھوپ والا ہونا یا تیز دھوپ والا ہونا،روشن ہونا۔
Flag Counter