Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
130 - 324
حضرت علی کے نمائندہ تھے دونوں نمائندوں میں ایک معاہدہ طے پایا کہ اگلے سال اصلاح امت کے لئے ازراح کے مقام پر اکٹھے ہوکر بات چیت کی جائے گی اس معاہدہ کے بعد حضرت امیر معاویہ اپنے لشکر سمیت شام کی طرف جب کہ حضرت علی اپنے لشکر کو لیکر کوفہ چلے گئے ۔
(تاریخ الخلفاء 253 ناشر ضیاء الدین پبلی کیشنز کھارادر کراچی)
1۔۔۔۔۔۔

      بَقَّیْتُ وَفْرِیْ وَانْحَرَفْتُ عَنِ الْعُلٰی              وَلَقِیْتُ اَضْیَافِیْ بِوَجْہٍ عَبُوْسٖ
ترجمہ:

    میں اپنا مال کثیر باقی رکھوں اور عادات کریمہ سے پہلوتہی کروں اور اپنے مہمانوں سے ترش روئی سے ملوں ۔

مطلب:

    شاعر ان اشعار میں خود کو بددعا دے رہاہے کہ اگرمیں آئندہ شعرمیں مذکور عمل نہ کروں تو مجھ میں یہ تمام برائیاں پید ا ہوں۔یہ شعر جواب شرط ہے۔

حل لغات:

     بَقَّیْتُ:(تفعیل)التبقیۃ:ثابت کرنا، باقی رکھنا۔وَفْرٌ:مص(ض):لہ المال:زیادہ کرنا، پورا کرنا۔ عِرضَ فلان:عزت کی حفاظت کرنا اور گالی نہ دینا۔ اِنْحَرَفْتُ:(انفعال)اِنْحَرَفَ:ٹیڑھا ہو جانا، اصل سے ہٹ جانا، منحرف ہونا۔ مزاجُہ:طبیعت کا اعتدال سے ہٹنا، طبیعت خراب ہو جانا، الی فلان:کسی کی طرف مائل ہونا، عن فلان:الگ اور بے تعلق ہونا۔اَلعُلٰی:بلندی ، شرافت۔
اَضْیَافٌ:وضُیُوْفٌ و ضِیَافٌ وضَیْفَان واَضائِفُ۔مف:اَلضَّیْفُ:
مہمان (واحد وجمع)
فی القرآن المجید:
ھَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ ضَیْفِ إِبْرَاھِیْمَ الْمُکْرَمِیْن۔(51/24)
عُبُوس:مص:کسی کے تیور چڑہنا، پیشانی پر بل پڑنا،شکن آلود ہونا، ترش رو ہونا،منہ بگاڑنا۔
ثُمَّ عَبَسَ وَ بَسَرَ ۔(74/22)
2۔۔۔۔۔۔

       اِنْ لَّمْ اَشُنَّ عَلَی ابْنِ حَرْبٍ غارَۃً                 لَمْ تَخُلْ یَوْمًا مِنْ نِھَابِ نُفُوْسٖ
ترجمہ:

    اگرمیں ابن حرب پر ایسی غارت گری والاحملہ نہ کروں جوکسی دن جانوں کے لوٹنے سے خالی نہ ہو۔

نوٹ:

     شاعر حضرت علی رضی اﷲتعالی عنہ کے سپاہی تھے اور حضرت امیر معاویہ بن حرب رضی اﷲتعالی عنہ کے لشکر سے لڑرہے تھے ۔یہ شعر شرط ہے۔
Flag Counter