:خالی ہونا۔عربی مقولہ ہے:
لا یَخْلُو المرءُ مِن وَدُوْد یَمْدَحُ وعَدُوّ یَقْدَحُ۔
کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو کسی تعریف کرنے والے دوست اور برائی کرنے والے دشمن سے خالی ہو۔ اَلْغَالِبُ:فا:غلبہ، وعلیہ(ض)غَلْبًا:غالب ہونا، زیر کرنا،فتح پانا، کسی پر اقتدار حاصل کرنا۔عربی مقولہ ہے:
اِذا لم تَغْلِبْ فَاخْلِبْ۔
غالب نہ آسکے تو حسن تدبیر سے کام کر۔
مَن غالَبَ الاَیّام غُلِبَ:
جو زمانہ پرغالب آنے کی کوشش کریگا وہ مغلوب ہوگا۔
1۔۔۔۔۔۔
اَنَا ابْنُ زَیَّابَۃَ اِنْ تَدْعُنِیْ آ تِکَ وَالظَّنُ عَلَی الْکَاذِبٖ
ترجمہ:
میں ابن زیابہ ہوں اگر تو مجھے(مقابلہ کے لئے)بلائے تو تیرے پاس آؤں گا اور بد گمانی کا وبال جھوٹے پر ہے۔
مطلب:
یہاں ابن زیابہ کاحقیقی معنی مراد نہیں کیونکہ اس کا زیابہ کا بیٹا ہوناتو ظاہر ہے،بلکہ مجازی معنی مراد ہے کہ میں قوت وشجاعت میں مشہور ہوں،اگر تو لڑائی کیلئے مجھے بلائے گا تو میں بلا تردد آؤں گا اور تیرا گمان جھوٹا ثابت ہوگا۔
وقال ا لْاَشتَرُالنَّخَعِیُّ (الکامل)
شاعر کا تعارف:
شاعر کا نام ـ:مالک بن حارث بن عبد یغوث نخعی ہے ،یہ اسلامی شاعرہیں۔اور بڑے بڑے بہادروں کے امیر اوراپنی قوم کے سردار تھے ،جنگ یرموک میں شریک ہوئے اس جنگ میں ان کی ایک آنکھ ضایع ہو گئی تھی، جنگ صفین میں حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ تھے ان اشعار میں اسے بیان کررہے ہیں۔
فائدہ :
جنگ صفین:حضرت علی رضی اﷲ عنہ جیسے ہی کوفہ پہچے تو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے شامی لشکر انکے ساتھ تھا ادھر حضرت علی کوفہ سے نکلے ماہ صفر 37ہجری میں صفوان کے مقام پر دونوں میں کئی روز تک خوب جنگ ہوئی آخر حضرت عمرو بن عاص کی سوچ اور فکر کے مطابق شامیوں نے نیزوں پر قرآن شریف بلند کرلئے چنانچہ یہ صورت حال دیکھ کر لوگوں نے جنگ میں اپنے ہاتھوں کو روک لیاپھر دونوں طرف سے صلح کے لئے ایک ایک آدمی کو حکم بنایا گیا حضرت عمرو بن عاص حضرت امیر معاویہ کی طرف سے حکم تھے جب کہ حضرت ابو موسی اشعری