Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
129 - 324
حل لغات:
خَالٍ:فا:خلابہ ومعہ والیہ(ن)خَلْوَۃً:
کسی سے تنہائی میں ملاقات کرنا،اکٹھا ہونا۔
خلا المکانُ(ن)خُلُوًّا
:خالی ہونا۔عربی مقولہ ہے:
لا یَخْلُو المرءُ مِن وَدُوْد یَمْدَحُ وعَدُوّ یَقْدَحُ۔
کوئی شخص بھی ایسا نہیں جو کسی تعریف کرنے والے دوست اور برائی کرنے والے دشمن سے خالی ہو۔ اَلْغَالِبُ:فا:غلبہ، وعلیہ(ض)غَلْبًا:غالب ہونا، زیر کرنا،فتح پانا، کسی پر اقتدار حاصل کرنا۔عربی مقولہ ہے:
اِذا لم تَغْلِبْ فَاخْلِبْ۔
غالب نہ آسکے تو حسن تدبیر سے کام کر۔
مَن غالَبَ الاَیّام غُلِبَ:
جو زمانہ پرغالب آنے کی کوشش کریگا وہ مغلوب ہوگا۔
    1۔۔۔۔۔۔

          اَنَا ابْنُ زَیَّابَۃَ اِنْ تَدْعُنِیْ                   آ تِکَ وَالظَّنُ عَلَی الْکَاذِبٖ
ترجمہ:

    میں ابن زیابہ ہوں اگر تو مجھے(مقابلہ کے لئے)بلائے تو تیرے پاس آؤں گا اور بد گمانی کا وبال جھوٹے پر ہے۔

مطلب:

    یہاں ابن زیابہ کاحقیقی معنی مراد نہیں کیونکہ اس کا زیابہ کا بیٹا ہوناتو ظاہر ہے،بلکہ مجازی معنی مراد ہے کہ میں قوت وشجاعت میں مشہور ہوں،اگر تو لڑائی کیلئے مجھے بلائے گا تو میں بلا تردد آؤں گا اور تیرا گمان جھوٹا ثابت ہوگا۔
وقال ا لْاَشتَرُالنَّخَعِیُّ (الکامل)
شاعر کا تعارف:

    شاعر کا نام ـ:مالک بن حارث بن عبد یغوث نخعی ہے ،یہ اسلامی شاعرہیں۔اور بڑے بڑے بہادروں کے امیر اوراپنی قوم کے سردار تھے ،جنگ یرموک میں شریک ہوئے اس جنگ میں ان کی ایک آنکھ ضایع ہو گئی تھی، جنگ صفین میں حضرت علی رضی اﷲ تعالی عنہ کے ساتھ تھے ان اشعار میں اسے بیان کررہے ہیں۔

فائدہ :

    جنگ صفین:حضرت علی رضی اﷲ عنہ جیسے ہی کوفہ پہچے تو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے شامی لشکر انکے ساتھ تھا ادھر حضرت علی کوفہ سے نکلے ماہ صفر  37؁ہجری میں صفوان کے مقام پر دونوں میں کئی روز تک خوب جنگ ہوئی آخر حضرت عمرو بن عاص کی سوچ اور فکر کے مطابق شامیوں نے نیزوں پر قرآن شریف بلند کرلئے چنانچہ یہ صورت حال دیکھ کر لوگوں نے جنگ میں اپنے ہاتھوں کو روک لیاپھر دونوں طرف سے صلح کے لئے ایک ایک آدمی کو حکم بنایا گیا حضرت عمرو بن عاص حضرت امیر معاویہ کی طرف سے حکم تھے جب کہ حضرت ابو موسی اشعری
Flag Counter