| دِيوانِ حماسه |
شاعر کانام:
حارث بن ہمام بن مرہ ہے یہ ابن زیابہ کا والد ہے یعنی زیابہ ،حارث ہی ہے (بیروت کے نسخے میں ایسا ہی ہے)یہ جاہلی شاعر ہے۔1۔۔۔۔۔۔
اَیَاابْنَ زَیَّابَۃَ اِنْ تَلْقَنِیْ لا تَلْقَنِیْ فِی الْنَعَمِ الْعَازِبٖترجمہ:
اے ابن زیابہ اگر تو مجھ سے ملے تو گھر سے دور چرنے والے اونٹوں میں نہیں ملے گا۔
مطلب:
شاعر ابن زیابہ پر طنز کررہاہے کہ میں تیری طرح اونٹوں کا چرواہا نہیں بلکہ تجربہ کار شہ سوار ہوں اس لئے تو مجھے اونٹوں میں نہیں بلکہ گھوڑوں میں پائے گا۔
حل لغات:
اَلنَّعَمُ:جانوروں پر مشتمل مال ودولت، چوپایہ، بطور خاص اونٹ، یہ مذکر ومؤنث دونوں طرح آتا ہے لیکن زیادہ تر مذکر ہی استعمال ہوتا ہے ،یہ مفرد کی صورت میں اکثر اونٹوں کیلئے آتاہے اور جب جمع ہوتوازواج ثمانیہ(بھیڑ،بکری،اونٹ اور گائے نر مادہ )مراد ہوتے ہیں۔(شرح دیوان الحماسۃ ،لمرزوقی،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
ج:اَنْعَامٌ،اَنَاعِیم۔فی القرآن المجید:
وَمِنَ الأَنْعَامِ حَمُولَۃً وَفَرْشاً کُلُواْ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّہُ۔(6/142)
اَلْعَازِبُ:فا۔عزب(ن،ض)الشیءُ عُزُوْبا:دور ہونا، پوشیدہ ہونا ۔
2۔۔۔۔۔۔
وتَلْقَنِیْ یَشْتَدُّبِیْ اَجْرَدٌ مُسْتَقْدِمُ البِرْکَۃِ کَالرَّاکِبٖترجمہ:
اور تو اس حال میں مجھ سے ملے گا کہ کم بالوں والا ،اپنے سوار کی طرح ابھرے ہوئے سینے والا گھوڑا مجھے تیزی سے لے جارہاہوگا ۔
مطلب:
گھڑ سواری میری فطرت ثانیہ بن چکی ہے ،میں ایسے عمدہ گھوڑے کا سوار ہوں جس کا سینہ دیگرگھوڑوں کی طرححل لغات:
یَشْتَدُّ:(افتعال)اشتد:طاقتور ہونا،مضبوط ہونا،سخت ہونا۔فی السَیْرِ:تیز دوڑنا۔ عربی مقولہ ہے: