قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنفُسِھِم لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللہِ۔(39/53)
ج:عُبْدٌ وعِبَادٌ و عُبُدٌ۔
عربی مقولہ ہے:عَبْدٌ وَ سُوِّمَ:غلام اور بے مہاریعنی کمینہ اور بے لگام۔ قَیَّدَہٗ:(تفعیل)پاؤں میں بیڑی ڈالنا، جانے سے روک دینا۔ اَجْمَالٌ:مف:جَمَلٌ:اونٹ۔
حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الْخِیَاطِ ؕ وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیۡنَ ۔(7/40)
6۔۔۔۔۔۔
اٰلَیْتُ لا اَدْفِنُ قَتْلاکُمْ فَدَخِّنُوالْمَرْءَ وسِرْبَالَہٗ
ترجمہ:
میں نے قسم کھائی ہے کہ تمہارے مقتولین کودفن نہیں کروں گاتو مرد اور اس کے لباس کو دھونی دو۔
مطلب:
میں تمہارے مقتولوں کوتمہارے سپرد نہیں کروں گا کہ تم رسوائی سے بچنے کیلئے انہیں دفن کردو ،ہاں انہیں جلد خوشبو لگاؤتاکہ فضا میں آلودگی پیدا نہ ہو۔
حل لغات:
اٰلَیْتُ:(افعال)اِیلاءً:قسم کھانا۔
لِّلَّذِیْنَ یُؤْلُونَ مِن نِّسَآئِھِم تَرَبُّصُ أَرْبَعَۃِ أَشْہُرٍ فَإِنْ فَآؤُوا فَإِنَّ اللّہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌ ۔(2/226)
قَتْلا:مف:قَتِیْلٌ:مقتول۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِیْ الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالأُنثَی بِالأُنثَی ۔(2/178)
مَقْتَلُ رَجُلٍ بَیْنَ فَکَّیْہِ:
آدمی کی قتل گاہ اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے ۔دَخِّنُوْا:(تفعیل)دخَّنَ الشیئَ: دھونی دینا۔
اَلْمَرْءُ:اَلْمِرْءُ اَلْمُرْءُ:
مرد،آدمی۔ج:رِجَالٌ(غیر لفظ سے)
کُلُّ امْرِ ءٍ فِی مَایُرْمٰی بِہٖ۔
ہرشخص میں کوئی ایسی بات ہے جس کی اس پر تہمت لگائی جاسکے ۔