Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
125 - 324
مطلب:

    ناتجربہ کا رشخص نیزے کو لاٹھی کی طرح پکڑتاہے ،شاعر ناتجربہ کا ر نہیں اسے نیزہ پکڑنے اور اس کا وار کرنے کا بہت ہی تجربہ ہے اور نمدہ کے گرنے سے نا تجربہ کا رسوار گر پڑتا ہے۔
حل لغات:
    اَمْلأ:ملأَالشیئَ(ف)مَلْأً:
بھرنا،پرکرنا۔
فی القرآن المجید:
فَلَن یُقْبَلَ مِنْ أَحَدِھِم مِّلْء ُ الأرْضِ ذَھَباً وَلَوِ افْتَدَی بِہِ أُوْلَـئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ وَمَا لَہُم مِّن نَّاصِرِیْن۔(3/91)
کَفٌّ:ہتھیلی (انگلیو ں سمیت)ہاتھ کا اندرونی حصہ ۔
کف عن الامر(ن)کفًّا:
رکنا،بازآنا ۔
فلانًا عن الامرِ:
روکنا ۔
وَھُوَ الَّذِیْ کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنکُمْ وَأَیْدِیَکُمْ عَنْہُم۔(48/24)
اَللِّبْدُ۔ نمدہ،بنی ہوئی اون یا بال، وہ اونی کپڑ اجو گھوڑے کی زین کے نیچے رکھا جاتاہے ، بچھانے کا ایک فرش۔ج:
اَلْبادٌولُبُوْ دٌ۔ لااتبع:تبع(س)تَبَعًا:
پیچھے چلنا، ساتھ چلنا،کسی کے بعد آنا۔تزوالہ:مص:
لَیْسَ لِسُلْطَانِ الْعِلْمِ زَوَالٌ:
باد شاہِ علم کو زوال نہیں۔
4۔۔۔۔۔۔

      وَالدِّرْعُ لااَبْغِیْ بِھَا ثَرْوَۃً                        کُلُّ امْرِءٍ مُسْتَوْدِعٌ مَالَہٗ
ترجمہ:

    میں زرہ کے بدلے مال حاصل نہیں کرتا ہر شخص اپنا مال محفوظ کرتاہے۔ 

مطلب:

     میں اپنا اسلحہ نہیں بیچتا بلکہ محفوظ کر کے رکھتاہوں کیونکہ یہ میر ا قیمتی سرمایہ ہے اور سب لوگ اپنا سرمایہ محفوظ رکھتے ہیں ۔

حل لغات:

    اَلدِّرْعُ:زرہ، مؤنث ہے کبھی مذکر بھی استعمال ہوتاہے۔ج:
دُرُوعٌ۔ اَبْغِیْ:بغی الشیئَ(ض)بَغْیًا:
طلب کرنا۔الرجلُ:حق سے ہٹ جانا، علیہ:ظلم وتعدی کرنا ، ناقص واوی بغی الشیئَ(ن)بَغْوًا:سے معنی ہوگا ، کسی چیز کو غور سے دیکھنا ، علیہ:ظلم وزیادتی کرنا۔ثَرْوَۃٌ:مال کی زیادتی یا قوم کی کثرت۔مُسْتَوْدِعٌ:کسی کے پاس مال بطور امانت رکھنا۔
5۔۔۔۔۔۔

       اِنَّکَ یَا عَمْرُو وَتَرْکَ النَّدٰی                    کَالْعَبْدِاِذْ قَیَّدَاَجْمَالَہٗ
ترجمہ:

    اے عمر بے شک تو سخاوت چھوڑ کر غلام کی طرح ہوگیا جب وہ اپنے اونٹ باندھ لے۔
Flag Counter