Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
124 - 324
 وقالَ ابْنُ زَیَّابَۃَ التَّیْمِیُّ (السریع)
1۔۔۔۔۔۔

     نُبِّئْتُ عَمْرًوا غَارِزًا رَاْئسَہٗ                           فِیْ سِنَۃٍ یُوْعِدُ اَخْوَالَہٗ
ترجمہ:

    مجھے خبر دی گئی ہے کہ عمرو اونگھ میں اپناسرڈال کر(یعنی غافل ہوکر)اپنے ماموؤں کودھمکی دے رہا ہے۔

مطلب:

     وہ انجام سے بے خبر ہوکر دھمکیاں دے رہا ہے، یہاں غفلت کواونگھ سے تشبیہ دی ہے نیند سے نہیں دی اوریہ بہت ہی عمدہ تشبیہ اور ابلغ تعریض ہے کیونکہ اونگھ میں آدمی بالکل بے خبر اور غافل نہیں ہوتا جب کہ نیندمیں غافل ہوجاتاہے،نیند اور اونگھ میں نمایاں فرق ہے جیسا کہ قرآن میں ہے:
لاَ تَأْخُذُہُ سِنَۃٌ وَلاَ نَوْم۔(2/255)
عمرو اگرچہ سمجھ دار ہے لیکن دور اندیش نہیں ہے۔
حل لغات:
     نُبِّئْتُ:نَبَّاَئہُ الْخَبَرَ بِا لْخبرِ:
خبر دینا ،خبر یا واقعہ تفصیل سے بتانا ،خبر دار کرنا ، یہ ان افعال میں سے ہے جومتعدی بہ سہ مفاعیل ہوتے ہیں۔
غارِزٌ:فا، غرز الشیءَ فی الشیئِ(ض)غَرْزًا:
داخل کرنا،گاڑہنا،چبھونا۔ سِنَۃٌ:اونگھ، غفلت۔
یُوْعِدُ:(افعال)اَوْعَدَ فلانًا:
کسی سے وعدہ کرنا، دھمکی دینا۔ اَخْوَالٌ:مف:اَلْخالُ:ماموں ۔
2۔۔۔۔۔۔

     وتِلْکَ مِنْہُ غَیْرُمَامُوْنَۃٍ                            اَنْ یَّفْعَلَ الشَّیْءَ اِذَا قَالَہٗ
ترجمہ:

    اور یہ دھمکی اس سے متوقع ہے کیونکہ وہ جو کہتاہے کرکے دکھاتاہے۔

مطلب:

    شاعر اپنے بھانجے پر طنز کررہاہے، یہ منہ اور مسور کی دال، یعنی وہ ایسا نہیں کرسکتا۔
3۔۔۔۔۔۔

     اَلرُّمْحُ لااَمْلَاُ کَفِّیْ بِہٖ                                   وَاللِّبْدُ لَا اَتْبَعُ تَزْوَالَہٗ
ترجمہ:

    میں نیزے سے اپنی ہتھیلی نہیں بھرتا اور نمدے کے گرنے سے نہیں گرتا۔
Flag Counter