Brailvi Books

دِيوانِ حماسه
123 - 324
سے کہو صاف مت کہو۔
''اِذَاالْتَقَیْنَاوُجُوْھًا لَا''
ابوعلی احمد مرزوقی کے نسخہ میں
''بکل ثَغْرٍخُدُودًاما''ہے۔ اَللِّطَامُ:
مص:ایک دوسرے کو تھپڑ مارنا۔
4۔۔۔۔۔۔

      ولَسْتُ بِخَالِعٍ عَنِّیْ ثِیَابِیْ                             اِذَا ھَرَّ الْکُمَاۃُ ولا اُرَامِیْ
ترجمہ:

    اور جب بہادر(جنگ کو )ناپسند کرتے ہیں تواس وقت بھی میں اپنا اسلحہ نہیں اتارتا اور نہ ہی (دور سے)تیر اندازی کرتا ہوں۔

مطلب:

     جس وقت بڑے بڑے بہادر جنگ میں جانے سے گھبراجاتے ہیں توایسے ہولناک وقت میں بھی میں مسلح ہو کر جنگ میں گھس جاتا ہوں اور بزدلوں کی طرح دور سے تیر اندازی نہیں کرتا بلکہ دشمن کے سامنے سینہ تان کر شمشیر کے جواہر دکھاتا ہوں ،اس کی تائیدآئندہ شعر کررہا ہے ۔
حل لغات:
    خَالِعٌ:فا، خلع الشیئَ(ف)خَلْعًا:
اتارنا،نکالنا،کھینچنا۔
فی القرآن ا لمجید:
إِنِّیْ أَنَا رَبُّکَ فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ إِنَّکَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًی۔(20/12)
ھَرَّ:(ن)ھَرًّا:ناپسند کرنا۔
5۔۔۔۔۔۔

        ولٰکِنِّیْ یَجُوْلُ الْمُھْرُ تَحْتِیْ                  اِلَی الْغَارَاتِ بِالْعَضْبِ الْحُسَامٖ
ترجمہ:

    لیکن میری سواری کا نو عمر گھوڑاجنگوں میں کاٹنے والی تلوار کے ساتھ جاتاہے۔
حل لغات:
     یَجُوْلُ:جال(ن)جَوْلاً:
ابھرنا، بلند ہونا۔فی الارض:گھومنا، پھرنا ۔
من جَالَ نالَ:
جوگھومتا ہے حاصل کرلیتاہے۔عربی مقولہ ہے :
جَوْلَۃُ البَا طلِ ساعَۃٌ وجو لۃُ الحقِّ اِلٰی قِیامِ السَّاعَۃِ:
باطل کا زمانہ ایک گھڑی ہوتاہے اور حق کازمانہ قیامت تک ہے، اَلْمُھْرُ:گھوڑے یا پالتو خچر وغیرہ کا بچہ
ج:اَمْھارٌ،مَھارٌ،مِھارَۃٌ۔اَلْعَضْبُ:
تیز تلوار یا زبان ۔ اَلْحُسَامُ:تیز تلوار۔حُسَامُ السَّیْفِ:تلوارکی دھار۔حَسمَہ،(ض)حَسْمًا:جڑ سے کاٹنا ۔ خلیل نے کہا ''تلوار''کو ''حسام ''اس لیئے کہتے ہیں کہ یہ بھی دشمن کے برے ارادے کو کاٹ کر رکھ دیتی ہے ۔
Flag Counter